خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 388

خطبات محمود ٣٨٨ کے زمانہ میں صحابہ میں نظر آتی ہے کہ باوجود تو کل کا مقام اختیار کرنے کے وہ محنت و مشقت کے کاموں کے عادی تھے اور پوری سعی اور کوشش کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم نے حکم دیا کہ مردم شماری کی جائے اور پتہ لگایا جائے کہ مسلمان کس قدر ہیں۔جب مردم شماری کی گئی تو معلوم ہوا کہ مسلمان سات سو ہیں۔بعض صحابہ نے کہا یا رسول اللہ یہ مردم شماری آپ نے کیوں کروائی۔اور پھر کہنے لگے کیا اب بھی ہم کو کوئی ہلاک کر سکتا ہے۔اب ہم سات سو ہو گئے ہے۔یہ وہ امید تھی جو صحابہ کے اندر نظر آتی ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کے اندراس قدر ہو شیاری بھی پائی جاتی تھی کہ ایک دفعہ رات کو معمولی سا شور ہو ا سارے صحابہ ہتھیار بند ہو کر باہر نکل آئے اور بعض مسجد میں جمع ہو گئے۔رسول کریم میر کو جب پتہ لگا تو آپ نے فرمایا وہی لوگ زیادہ ہو شیار تھے جو مسجد میں جمع ہوئے کیونکہ مسجد مسلمانوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔غرض معمولی سے شور پر تمام صحابہ اکٹھے ہو جاتے تھے۔مگر آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں پر بڑی سے بڑی مصیبتیں آتی ہیں اور وہ ہاتھ تک ہلانا عار سمجھتے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ آپ ہی آپ سب کچھ ہو جائے گا۔یہ وہ امید ہے جو قوموں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں ہمیشہ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ وہ جس کو امید سمجھتے ہیں، وہ ان کی سستی ہوتی ہے۔اور جس کا نام تو کل رکھتے ہیں وہ انکی بے عملی کا نشان ہے۔آپ لوگوں کو ایسی محنت اور مشقت سے کام کرنا چاہئے کہ وہ باقی لوگوں سے مقابلہ میں بہت بڑھ کر ہو۔اگر دوسری قوموں کے لوگ پانچ گھنٹے کام کر کے خوش ہوتے ہیں تو آپ لوگ سات گھنٹے کام کر کے خوش ہوں۔اور یہ یاد رکھیں کہ وہ عمل جس کے ساتھ بستی چھا جاتی ہے عمل نہیں۔عمل وہی ہے جس کے ساتھ بشاشت پیدا ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و النزعتِ فَرْقًا وَالنَّشِطَتِ نَشْطَا لا یعنی مومن کام کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کے دلوں میں چستی اور امنگ بھی پیدا ہوتی ہے وہ عمل کرتے ہیں مگر اس کے بعد وہ ست نہیں ہو جاتے۔بلکہ بشاشت قلبی کے ساتھ اور زیادہ کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔پس آپ لوگ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں مگر محنت اور تدبیر میں مخالفوں سے بڑھ کر رہیں۔اگر دوسرے لوگ دس گھنٹے کام کرتے ہیں تو آپ لوگوں کو بارہ گھنٹے کام کرنا چاہئے۔اور اگر دوسرے اپنی آدھی قوتوں کو کام میں لاتے ہیں تو آپ لوگوں کو اپنی ساری قوتیں صرف کر دینی چاہیں۔اگر آپ لوگ یہ طریق اختیار کریں تو پھر آپ کا حق ہے کہ آپ تو کل کریں۔اور پھر قلیل -