خطبات محمود (جلد 13) — Page 383
خطبات محمود ٣٨٣ سال ۱۹۳۲ء شخص کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کہتا ہے میں مرگیا۔دنیا خراب ہو گئی۔مجھ پر مصیبتیں ہی مصیبتیں آرہی ہیں۔مگر اسی جگہ ہم ایک دوسرے شخص کو دیکھتے ہیں جو اسی جیسے حالات میں سے گزرتے ہوئے کہتا ہے کہ بڑا آرام ہے ، آسائش ہی آسائش ہے۔تو یہ اختلاف جو ہم کو نظر آتا ہے بتاتا ہے کہ انسان اپنی نسبت غلط اندازے لگالیا کرتا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں ہم سخت مصیبت اور دکھ میں مبتلا ہیں حالانکہ در حقیقت ہم مصیبت اور دکھ میں مبتلا نہیں ہوتے۔اور بیسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں ہم آرام اور راحت میں ہیں حالانکہ ہم آرام اور راحت میں نہیں ہوتے۔پھر بسا اوقات ہم سمجھتے ہیں ہم جہنم میں پڑے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ہر قسم کی راحت کے سامان مہیا کئے ہوتے ہیں۔اور بسا اوقات ہم سمجھتے ہیں ہم جنت میں ہیں حالا نکہ ہم دوزخ میں گرے ہوتے ہیں۔پس اپنے اندازوں سے بہت ہوشیار رہنا چاہئے کیونکہ انسانی انداز نے بہت دفعہ غلط ہو جاتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے انسان کامیابی کے سامان حاصل ہو جانے کے باوجود محض اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ وہ اپنے حالات کا غلط اندازہ لگاتے ہیں اور بہت سے ایسے انسان جنہیں کامیابی کے سامان حاصل نہیں ہوتے ، صحیح اندازہ لگانے کی وجہ سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن کو ایک گر بتایا ہے۔اور وہ ایسا ہے کہ باوجود بعض دفعہ غلط اندازہ لگانے کے انسان نقصانات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔میں نے لوگوں کی جو تقسیم بتائی ہے وہ اتنی وسیع ہے کہ انسان بمشکل اسے اپنے زیر نظر رکھ سکتا ہے۔خصوصاً جب کہ بہت دفعہ ایک انسان بعض مجبوریوں کے ماتحت کسی نقص میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔مثلاوہ شخص جس کے اندر چڑ چڑا پن پیدا ہو گیا ہے۔اور وہ اپنے ارد گرد مایوسی ہی مایوسی دیکھتا ہے۔ایسا آدمی مجبور ہے کہ غمگین رہے اور کبھی بشاشت و مسرت اپنے اندر نہ پائے کیونکہ وہ جان کر مایوس نہیں بنتا بلکہ بیماریوں نے نے اسے ایسا کمزور اور اس کے جسم کو اس طرح کھوکھلا کر دیا ہے کہ اس کے اندر چڑ چڑا پن پیدا ہو گیا ہے۔ایسے شخص کا بظاہر کیا قصور ہے۔اگر وہ ہر چیز میں تاریکی ہی تاریکی دیکھے اور مایوسی اور غم کا شکار ہو جائے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ مایوسی اس سے دور ہو جائے۔لیکن چونکہ بیماریوں نے اس کے جسم کو نڈھال کر دیا ہوتا ہے اس لئے وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔یہ اور ایسی ہی دیگر مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک گر بیان فرمایا ہے۔اور وہ ایسا کر ہے کہ اگر کوئی شخص اسے مد نظر رکھے تو وہ تمام ایسے مضرات سے محفوظ رہ کر صحیح طور پر