خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 375

خطبات محمود ۳۷۵ سال ۱۹۳۲ء کر سکتا۔آخر خدا نے اسے ہلاک کر دیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلائی۔پس ریاست کا ظلم بھی ایک وقت تک ہے۔آخر خدا کی غیرت اسکے بندوں کو نجات دلائے گی۔یہ کہنا کہ اب کیا ہو گا ریاست اس قدر تشدد پر اتر آئی ہے، بیوقوفی ہے۔یہ خدا کا ارادہ اور اس کی مشیت ہے اور یہ کام ہو کر رہے گا۔پس ہمارا حصہ لینا تو محض خون لگا کر شہیدوں میں داخل ہوتا ہے۔اس لئے گھبراؤ نہیں۔چندہ کی تحریک کو بدستور جاری رکھو۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں سے کام لو اور جنہیں اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے وہ اس مہم میں اپنا نام پیش کریں تا اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو سکیں۔میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے نوجوان ایسی دلیری اور ہوشیاری سے کام کریں گے کہ ان کا مقصد انہیں بہت جلد حاصل ہو جائے گا۔بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کریں اور بغیر ا سکے کہ وہ اپنی روایات سلسلہ کے خلاف کریں انہیں جرات اور بہادری سے کام کرنا چاہئے۔ریاست اس وقت خود قانون شکنی کر رہی ہے۔اور اگر کسی عدالت میں معاملہ پیش ہو تو وہ یقینا ریاست کو ہی باغی قرار دے گی۔پس اس قانون شکنی کی روح کا مقابلہ کرنا ہے۔جس کے لئے نہایت ہی دانائی اور ہوشیاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔تا ایسا ہو کہ ہم اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہو سکیں تو دوسری طرف اس کے بندوں کے شکریہ کے مستحق بھی ہو جائیں۔(الفضل یکم مئی ۱۹۳۲ء) ل النساء : ۱۰۵ ل حم السجدة : ٣١ بخاری کتاب المظالم باب من قتل دون ماله