خطبات محمود (جلد 13) — Page 374
خطبات محمود ۳۷۴ سال ۱۹۳۲ء نے صرف خاص خاص کاموں کی وجہ سے تعلیم کو ضروری قرار دیا ہے۔لیکن غیر تعلیم یافتہ لوگ بھی کئی کام کر سکتے ہیں۔پس ہر قسم کے لوگوں کو اپنے نام پیش کرنے چاہئیں۔کئی ایسے ہو سکتے ہیں جو لمبے عرصہ کے لئے اپنے نام پیش نہ کر سکیں مثلا یہ کہ وہ کسی تاجر کے ملازم ہوں۔ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ جتنے عرصہ کے لئے بھی اپنے نام پیش کر سکیں پیش کر دیں مثلاً لکھ دیں کہ وہ ایک ماہ کے لئے یا دو ماہ کے لئے یا تین ماہ کے لئے یا چار ماہ کے لئے پانچ ماہ کے لئے یا چھ ماہ کے لئے کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور اتنے عرصہ کے لئے وہ اپنا وقت فارغ کر سکتے ہیں۔ایسے لوگوں سے اتنا ہی عرصہ کام لیا جائے گا۔مگر ضرورت یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ اپنے نام پیش کریں جو بہادر ہوں اور فرمانبرداری سے کام کرنے والے ہوں۔جیسے مکانا کے علاقہ میں ارتداد کے ایام میں ہم نے حکم دے رکھا تھا کہ افسر کی اطاعت ضروری ہے خواہ وہ کوئی حکم دے۔اطاعت اور فرمانبرداری ہمیشہ ہی ضروری ہوتی ہے مگر لڑائی کے میدان میں اس کی اور بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔پس جماعت کے نوجوان آگے بڑھیں اور اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔نوجوانوں سے مراد صرف جوان عمر ہی نہیں بلکہ جو ان دل والے بھی ہیں جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پوری فرمانبرداری سے کام کریں گے انہیں چاہئے کہ وہ اپنے نام پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں یا کسی صیغہ میں جس کی طرف وہ خط لکھ رہے ہوں بھیج دیں۔میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اس معاملہ میں چندہ کی ضرورت ہے۔پس چندے اکٹھے کرو اور دعاؤں سے کام لو۔ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ اس معاملہ میں خدا تعالٰی ہماری مدد کر بے گا۔اور وہ ظلم کا نشان تک کشمیر سے مٹادے گا۔اللہ تعالیٰ عظیم الشان طاقتوں کا مالک ہے اور وہ جس کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے کوئی نہیں جو اسے روک سکے خواہ حکومت ہو یا راجہ اور مہا راجہ ہو اللہ تعالیٰ کی مثیت میں کوئی روک نہیں بن سکتا اور جو روک بنتا ہے وہ کاٹا جاتا اور ہلاک کیا جاتا ہے۔پس ہمیں تو یہ یقین ہے کہ یہ کام ہو کر رہے گا۔ایک نہیں ہزار ریاستیں اپنے ظلم و ستم سے روک ڈالیں پھر بھی اللہ تعالیٰ انہیں شکست دے گا۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کی صفات کے خلاف ہے کہ وہ اتنے لمبے عرصہ تک ایک قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا رہنے دے۔پس کوئی گورنمنٹ اس کام کو روک نہیں سکتی۔نہ کوئی حکومت ہے جو اس کام کو ضعف پہنچا سکے۔یہ خدا کا کام ہے جو ہو کر رہے گا۔آج سے سینکڑوں سال پہلے فرعون نے بنی اسرائیل پر مدتوں ظلم تو ڑے لاکھوں اذیتیں اور تکالیف پہنچائیں۔اس نے اپنے غرور میں سمجھا تھا کہ مجھے کوئی ہلاک نہیں