خطبات محمود (جلد 13) — Page 373
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ کئی ہیں جو کوئی پیشہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔مگر ابھی بے کار ہیں۔میں ان سب سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور جس قدر جلد ہو سکے اپنے نام متعلقہ دفتر میں بھجوا دیں تاکہ فورا مناسب کارروائی شروع کی جائے۔ہم ایسے نوجوانوں کو تنخواہیں نہیں دیں گے۔صرف گزارہ کے لے معمولی رقم دیں گے ، رہائش کا انتظام کریں گے اور سفر خرچ دے سکیں گے۔اور میں سمجھتا ہوں قومی خدمات کے لئے تو اگر بجائے معاوضہ لینے کے خود جیب سے خرچ کیا جائے تو یہ اور بھی زیادہ بہتر ہے۔اور ایسی قربانی زیادہ شاندار ہو جاتی ہے اللہ تعالی کے فضل سے ہماری جماعت کے وکلاء نے کشمیر کے معاملہ میں بہت بڑی قربانی کی ہے۔کئی ہیں جنہوں نے اپنی مفت خدمات پیش کیں۔اور بغیر ایک پیسہ لینے کے انہوں نے کام کیا۔کئی ہیں جنہوں نے اپنے پیٹے چھوڑ دیئے۔دکانیں بند کر دیں اور بغیر کوئی معاوضہ لئے کام کرنے لگ گئے۔تو جہاں تمہارے بھائیوں میں سے بعض نے مفت کام کیا۔بعضوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں اور قربانی کے نمونے دکھائے ، وہاں اگر تم جنہیں گزارہ بھی ملتا ہے کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرو تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہوگی۔پس میں چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوست فوری طور پر اپنی خدمات پیش کریں۔پنجاب اور صوبہ سرحد کے رہنے والے لوگ زیادہ اچھا کام کر سکتے ہیں۔ان سب کو یہ سمجھ کر اپنا نام پیش کرنا چاہئے کہ ریاست کی طرف سے انہیں جو بھی تکلیف پہنچے گی اسے وہ خوشی سے برداشت کریں گے اور قید و بند کی مصیبتیں جھیلنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے کیونکہ اس کام میں خطرات ضرور ہیں اور سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ تکلیف کے وقت کوئی ہمارا آدمی اپنے نفس پر قابو چھوڑ بیٹھے اور کوئی بات خلاف شریعت اور خلاف روایات سلسلہ کر بیٹھے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالی نے یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ بغیر اس کے کہ قانون شکنی کرے اور بغیر اس کے کہ سلسلہ کی سابقہ پالیسی کو صدمہ پہنچائے قید و بند کی مصیبتیں جھیل کر مظلوموں کی امداد کر سکتی ہے۔در اصل جب کسی قوم پر ایک لمبے عرصہ تک مصیبتیں نہیں آتیں تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کے لوگوں کے دلوں میں بزدلی پیدا ہو جاتی ہے۔مگر اللہ تعالی بزدلی کو کبھی پسند نہیں کرتا۔پس اللہ تعالی نے ہماری جماعت کے سامنے یہ موقع رکھا ہے تا اس کی بہادری اور شجاعت کا سکہ لوگوں کے دلوں پر بیٹھے اور لوگ سمجھ لیں کہ مومن بزدل نہیں ہو تا۔میں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت کا اظہار کیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ صرف تعلیم یافتہ لوگ ہی اپنا نام پیش کریں۔میں