خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 371

طبات محمود سال ۱۹۳۲ء کہلا سکتی جیسے کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اپنی جان دیتا ہے۔بعینہ اسی طرح یہ بھی ایک مذہبی اور دینی معاملہ کہلائے گا۔مگر اس طرح نہیں جیسے تبلیغ اور حفاظت اسلام کا کام ہے وہ اور قتسم کا دینی کام ہے اور یہ اور قسم کا۔مگر بہر حال یہ بھی ایک رنگ میں مذہبی کام ہے۔گو یہ ایسا نہیں جس کے لئے جہاد کی ضرورت ہو۔ہر چیز کا خد اتعالیٰ نے ایک مرتبہ رکھا ہے اور اس مرتبہ کی حدود کے اندرا سے دیکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی یہ قول اگر چہ ہے تو کسی اور کا مگر آپ اس کا بہت ذکر فرمایا کرتے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تو ہر چیز کو اس کے دائرہ کے اندر نہیں رکھے گا بڑے کو بڑا اور چھوٹے کو چھوٹا نہیں سمجھے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تو زندیق ہو جائے گا۔پس شہادت کے مختلف دائرے ہیں۔ہو سکتا ہے ایک شخص ہندو ہو یا عیسائی ہو اور وہ اپنے مال یا جان کی حفاظت میں مارا جائے وہ بھی اس حدیث کے ماتحت شہید سمجھا جائے گا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ایک مسلمان اپنے مال یا جان کی حفاظت میں مارا جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کے حضور اور بھی زیادہ درجہ ملے گا۔اور اگر ہند و یا عیسائی مارا جائے تو بھی اللہ تعالی اسے اجر سے محروم نہیں رکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی بزدلی کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔پس یہ بھی ایک رنگ میں مذہبی معاملہ ہے اور اس میں ہماری جماعت کو خصوصیت سے توجہ کرنی چاہئے۔ہم کشمیر میں عدل اور انصاف قائم کرنا چاہئے تھے مگر باوجود اس کے حکومت نے نہایت ہی ظالمانہ اور غیر منصفانہ طریق پر ہمارے نمائندوں کو وہاں سے نکال دیا ہے۔اگر یہ حکومت کسی اور حکومت کے نمائندوں کو اپنے ملک سے نکال دیتی تو یقینا وہ حکومت جس کے نمائندوں کو اس حکومت نے اپنے ملک سے نکالا ہوتا اس کے مقابل پر اعلان جنگ کر دیتی اور اپنی اس تحقیر کا اس سے انتقام لیتی لیکن جبکہ حکومت ہمارے پاس نہیں اور حکومت نے بلاوجہ ہمارے نمائندوں کو وہاں سے نکال دیا ہے۔کم از کم میں اخلاقی جنگ کا اعلان ضرور کر دینا چاہئے۔ابھی ہمیں خدا نے تو ہیں اور بندوقیں نہیں دیں اور نہ خدا نے ہمیں آزاد اور با اختیار حکومت عطا کی ہے۔اگر ہمارے پاس بھی تو ہیں اور بندوقیں ہو تیں اور ہمیں بھی با اختیار حکومت حاصل ہوتی تو یقینا ہم ریاست کے اس ظالمانہ فعل کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے اور ہم صبرنہ کرتے جب تک اس ہتک اور تذلیل کی اسے سزا نہ دے دیتے لیکن چونکہ اس جنگ کے سامان ہمارے پاس موجود نہیں اور نہ ہمیں حکومت حاصل ہے اس لئے اب میں کم از کم دو سرے