خطبات محمود (جلد 13) — Page 353
خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۳۲ء لگایا ہے کہ قلیل ترین اخراجات کے لئے اس تحریک پر دو ہزار روپیہ ماہوار خرچ آتا ہے۔اور اگر ہماری جماعت کے دوست ایک پائی کی روپیہ ماہوار چندہ اپنے اوپر مظلومین کشمیر کی امداد کے لئے لازم کرلیں، تو بھی کافی رقم جمع ہو سکتی ہے اور جو لوگ بارہ چودہ بلکہ پچیس تمیں پائی کی روپیہ چندہ دینے کے عادی ہیں ان کے لئے ایک پائی کا اضافہ کوئی بڑی بات نہیں اور یہ کوئی بوجھ نہیں کیونکہ وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔عام طور پر چندہ عام ایک آنہ فی روپیہ یعنی بارہ پائی ادا کیا جاتا ہے۔پھر چنده خاص چنده جلسہ سالانہ اور مختلف عارضی تحریکات اسکے علاوہ ہیں۔اور ان کو ملا لیا جائے تو جماعت کے چندہ کی اوسط ۱۵ پائی کی روپیہ کے قریب ہو جاتی ہے۔اور اگر اس میں ایک پائی کا اضافہ کر لیا جائے تو کوئی بوجھ نہیں۔پھر بعض لوگ زیادہ بھی دے سکتے ہیں۔ایک دوست نے تو یہ نمونہ دکھایا ہے کہ وہ موصی ہیں لیکن باوجو د دسواں حصہ دین کی راہ میں با قاعدہ ادا کرنے کے اب وہ وعدہ کرتے ہیں کہ میں کشمیر کے لئے جب تک یہ کام ختم نہ ہو جائے اپنی آمد سے ایک آنہ فی روپیہ چندہ دیتا رہوں گا جو پندرہ سولہ روپیہ ماہوار کے قریب ہو گا۔غرض جو زیادہ دے سکتا ہو وہ زیادہ دے لیکن کم از کم ایک پائی تو ہر شخص دے اور یہ کوئی بڑا بوجھ نہیں۔جو شخص ماہوار سو روپیہ تنخواہ پاتا ہے اسے سو پائی یعنی صرف سوا آٹھ آنہ ماہوار دینے ہوں گے اور یہ کوئی نا قابل برداشت بوجھ نہیں۔پچاس روپے والے کو چار آنہ اور ایک دھیلہ دینا پڑے گا۔اس قسم کے چندوں میں طالب علم بھی حصہ لے سکتے ہیں۔جو طالب علم پندرہ روپیہ ماہوار خرچ لیتا ہے وہ نہایت آسانی کے ساتھ پندرہ پائیاں ادا کر سکتا ہے۔پس اگر دوسرے لوگ ستی دکھائیں اور مخالفت کی وجہ سے اس میں حصہ نہ لیں اور جماعت کے دوست ہی ایک پائی کی روپیہ ادا کرنے لگ جائیں تو بھی بہت کام ہو سکتا ہے۔مجھے امید ہے کہ قادیان اور باہر کے دوست پوری تندہی کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوں گے۔مگر اس کے متعلق یہ ضروریا د رکھنا چاہئے کہ میں حکم نہیں دیتا صرف ترغیب دلاتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں اگر میری اس ترغیب کو بھی کارکن با قاعدہ دوستوں کے کانوں تک پہنچادیں تو لوگ اس پر عمل کرنے لگ جائیں گے۔ہاں جسے ملال ہو اسے چھوڑ دو۔کیونکہ یہ خالص دینی کام نہیں کہ اس میں حکم دیا جاسکے۔مگر تحریک ضرور کرو۔اس کے بعد میں ایک عظیم الشان ملکی معاملہ کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہندوستان کا سیاسی فتنہ ہے۔ہمارا جہاں یہ فرض ہے کہ ریاست کشمیر کے مسلمانوں کو مظالم سے بچائیں وہاں یہ بھی ہے کہ اپنے ملک کو بھی ہر قسم کی فتنہ انگیزی سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔