خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 327

خطبات محمود ۳۲۷ سال ۱۹۳۲ء دیکھنے والے موجود ہیں۔پھر اس نے کلام الہی کو بھی اپنے معارف اور ان گروں کی وجہ سے جو اس نے قرآن مجید کے قسم کے لئے ہمیں بتائے تازہ اور زندہ کر دیا۔پس یہ دونوں نعمتیں جو اتحاد کے لئے ضروری ہیں آج ہم میں موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا کلام بھی ہم میں موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کا رسول بھی ہم میں موجود ہے۔پس ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی وجہ سے آپس میں بھائی مائی تو بن گئے۔اب اگر آپس میں لڑائیاں ہیں ، جھگڑے اور تفرقے ہیں، رنجشیں بغض اور عداد تیں ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلام سے دوری کی وجہ سے ہیں۔پس ہر بغض جو ذاتیات کی وجہ سے ہے، ہر جھگڑا جو ذاتیات کی وجہ سے ہے، ہر لڑائی جو دنیوی معاملات کی وجہ سے ہے اور ہر کینہ جو دنیاوی وجوہات سے ہے اسے جس قدر جلد دور کر سکتے ہو کرو۔تم میں سے ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ وہ یہ خطبہ دوسروں تک پہنچائے اور اس خطبہ کے بعد انہیں جو پہلا موقع میسر ہو اس میں اپنے بھائیوں سے صلح کرے۔عناد ، بغض کینہ اور جھگڑے سب کو یکسر مٹاکر محبت پیار اور الفت پیدا کرے ، اگر خطبہ سننے کے بعد کسی کو موقع نہ ملے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اور موقع نکال کر اپنے بھائی کے پاس جائے اور اس سے اپنے قصور کی معافی مانگے۔یاد رکھو رسول کریم میں یہ نے فرمایا ہے جو شخص پہلے اپنے بھائی سے معافی مانگتا ہے وہ پانچ ہم سو سال پہلے جنت میں داخل ہوتا ہے۔تم اگر خدا پر ایمان رکھتے ہو ، اگر تمہیں رسول کریم کی باتوں پر یقین ہے اور اگر تمہیں جنت کی کچھ بھی قدر ہے تو اس نعمت کے حصول کے لئے دوڑو اور یاد رکھو کہ پانچ سو سال کا تو لمبا عرصہ ہے اگر تمہیں ایک منٹ بھی پہلے جنت میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے تو اسے ضائع مت کرو۔تم سوچو کہ ساٹھ یا ستر سالہ عمر کو بآرام گزارنے کے لئے کیا کیا کوششیں کرتے ہو۔اور اگر تمہارا ایک سال بھی آرام سے کٹ جائے تو کتنا اللہ تعالٰی کا شکر بجالاتے ہو۔اور آرام کے حصول کے لئے کس قدر قربانیاں کرتے ہو جب تھوڑے سے وقت کو آرام سے گزارنے کی اتنی فکر کرتے ہو تو اگر تمہیں کسی عمل کی وجہ سے ایک لمبا عرصہ آرام اور راحت کا ملتا ہے تو کیوں اسے ضائع کرتے ہو۔ہاں جو اللہ تعالیٰ کے لئے لڑائیاں ہیں جو دین کی غیرت کے لئے لڑائیاں ہیں، جو اسلام کے ناموس کے لئے لڑائیاں ہیں وہ بابرکت لڑائیاں ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں اور ہم ان کے ہرگز مخالف نہیں اور ان دینی لڑائیوں میں گو ہم دوسرے کے غلط عقائد کے مخالف ہوتے ہیں مگر ہم اسے اپنی دعا سے محروم نہیں رکھتے۔ان لڑائیوں کو علیحدہ کر کے کہ انکے اور اصول ہیں جو محض اپنے نفس کی وجہ سے لڑائیاں ہیں جو ا