خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۱ء عش طبیعت پر نہایت ہی گہرا اثر ہوا اور اس صدمہ کی وجہ سے کچھ انقباض سا ہو گیا۔اسی اثناء میں مغرب کا وقت آگیا اور میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوا۔میں نے اللہ اکبر کہہ کر جب نماز شروع کی تو میرے منہ سے الحمد اللہ نہ نکلے۔بہت دیر ہو گئی مگر میں نے قراءت نہ شروع کی۔مقتدی خیال کرنے لگے کہ شاید میں بھول گیا ہوں اور خیال نہیں رہا کہ یہ بلند آواز سے قرأت پڑھنے والی نماز ہے بہت دیر ہو گئی مگر میرے منہ سے الْحَمْدُ لِلَّهِ نہ نکلی۔میرے دل میں ایک لڑائی شروع تھی میں اس بات کے متعلق ایک دلیل دیتا کہ مجھے الْحَمْدُ لِلهِ کہنی چاہئے مگر پھر خیال آتا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر کیسے کروں میرا دل تو غمگین ہے۔فرماتے تھے جب بہت دیر ہو گئی تو معا مجھے خیال آیا کہ لوگ آخر اسی لئے بچے کی خواہش کرتے ہیں کہ وہ بڑا ہو کر اچھے کام کرے گا اور اس طرح ماں باپ کا نام بلند ہو گا لوگ دعائیں کریں گے مگر کیا کوئی اس امر کا ذمہ دار ہو سکتا ہے کہ اس کی اولاد نیک ہوگی ممکن ہے ایک شخص کا بچہ بڑا ہو کر چور بن جائے ممکن ہے ڈاکو بن جائے ممکن ہے لوگوں کے حقوق تلف کرنے والا بن جائے اور لوگ بد دعائیں دیں کہ یہ تو بڑا ہی خبیث ہے اس کا باپ بھی ایسا ہی ہو گا۔جب یہ بھی امکان ہے اور اصل علم غیب اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا تو وہ جو کچھ بھی کرے بہر حال ہمارے لئے وہی مفید ہے اور اس نے ضرور ہمارے لئے کسی بہتری کو مد نظر رکھا ہو گا۔فرماتے جب مجھے یہ خیال آیا تو میرے دل میں ایک غیر معمولی بشاشت پیدا ہو گئی اور میں نے نہایت بلند آواز سے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمينَ مگر مصیبت تو یہ ہے کہ مصیبتوں والے ہی نہیں نعمتوں والے بھی کہتے ہیں کہ ہم مصیبت میں مبتلاء ہیں۔اگر کوئی غریب ہے تو وہ کہے گا مجھے تو خدا نے کچھ دیا ہی نہیں اور اگر کوئی امیر ہے اور اپنی تجارت یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہے تو وہ کہتا سنائی دے گا کہ مجھے تو مرنے کی بھی فرصت نہیں تم مجھے نماز کے لئے کیا کہتے ہو۔اسی طرح جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی وہ کہتا ہے خدا نے مجھے کیا دیا؟ اور جو اولاد والے ہیں وہ کہتے ہیں ہر وقت بچوں کا ہی فکر لگا رہتا ہے کم بختوں کو پالنا بھی بڑی مصیبت ہے۔پھر ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ جس وقت انہیں کوئی رتبہ نہیں ملتا اس وقت یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں بڑا درجہ نہیں ملا۔اور جب درجہ مل جاتا ہے تو یہ شکایت ہوتی ہے کہ لوگ ہر وقت چمٹے رہتے ہیں اور وہ اپنی ضروریات ہم سے پورا کرانا چاہتے ہیں۔غرض اللہ تعالی کی نعمتیں جو اس نے انسانوں کو دیں مخفی ہوں یا ظاہری ساری کی ساری ایسی