خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 287

خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۱ء اتحاد کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔اس آپس کی ناچاقی اور اختلاف سے فائدہ اٹھا کر دشمن متحد ہو کر مسلمانوں پر حملہ کر دے گا اور اسلام کی طاقت کو بالکل کچل کر رکھ دے گا۔پس اس وقت ضرورت ہے کہ ہم وہی نمونہ دکھا ئیں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعلیم دی که گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار لوگ ہمیں دھتکاریں تو ہم انہیں محبت کے ساتھ بلائیں اور حسن سلوک کریں، وہ گالیاں دیں تو ہم دعا دیں، وہ منہ پھیر لیں تو ہم انہیں لپٹ جائیں اگر ہم یہ نمونہ دکھا ئیں گے تو ان کے دلوں میں بھی درد پیدا ہو گا اور ان کے قلوب میں بھی محبت پیدا ہوگی اور آخر وہ دن آجائے گا جب مسلمانوں کی ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ ان میں کامل طور پر اتحاد پیدا کر دے گا اور شیطان مسلمانوں میں تفرق و تشتت پیدا کرنے سے بالکل مایوس ہو جائے گا اور وہ سمجھ لے گا کہ اس جماعت میں پھوٹ ڈلوانا نا ممکن ہے۔پس اختلاف عقائد کے باوجود آپس میں محبت اور پیار رکھنا چاہئے اور در حقیقت موجودہ زمانہ کی انتہائی مشکلات اسی امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم دوسروں سے اس اصل کے ماتحت صلح کر لیں کہ ہر فرقہ اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے متحدہ طور پر کام کرے اور جن امور میں مسلمانوں کا قومی مفاد ہو ان میں باہمی اختلافات کو نظر انداز کر دیا جائے۔در اصل یہ ایک نہایت ہی اہم سوال ہے اور اسی امر کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صلح کی کوشش فرمائی تھی مگر اس وقت تو لوگوں نے اس اصل کو تسلیم نہ کیا لیکن آج لوگ تیار ہیں کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں صلح رکھیں اور ہر ایسی تحریک سے بچیں اختلاف پیدا کرنے والی اور مسلمانوں کو باہم لڑانے والی ہو۔پس ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے اور یقین رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بہبودی کے لئے سامان پیدا کرے گا اور ان کی ترقی کے لئے ان میں اتحاد قائم کر دے گا کیونکہ مایوس ہمیشہ شیطان کے بھائی ہوا کرتے ہیں لیکن خدا کے پیارے اور محبوب بندے ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جو اس کی رحمتوں سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔الفضل ۱۹ نومبر ۱۹۳۱ء)