خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 286

خطبات محمود ۲۸۶ ۱۹۳۱ء جماعت کو ہو شیار کرنا چاہتا ہوں کہ آج کل ہمارے سلسلہ کی سخت مخالفت ہو رنا ہے اور یہ وقت ہے کہ خصوصیت سے ہم اپنے اندر چستی پیدا کریں، ہوشیاری پیدا کریں اور ایمان کی روح پیدا کریں اور ان مصائب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں بلکہ خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب میں بڑھانے کا سامان مہیا کیا۔پھر ہمارا فرض ہے کہ باوجود لوگوں کی دشمنی اور عداوت کے ان کے ساتھ احسان اور مروّت کا سلوک کریں۔نادان ہے وہ جو کہتا ہے کہ فلاں شخص چونکہ ہمارا دشمن ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرنا چاہئے اگر وہ فی الحقیقت ہمارا دشمن ہے تو سب سے بڑی نیکی وہی ہوا کرتی ہے جو انسان اپنے دشمن کے ساتھ کرے۔ہر باپ اپنے بچے کو کھلاتا پلاتا ہے ، ہر بھائی اپنے بھائی کی خبر گیری کرتا ہے اور ہر عزیز اپنے عزیز کی امداد کرتا ہے۔پس اگر چہ یہ بھی خوبی اور نیکی ہے مگر بڑی نیکی وہی ہے جو دشمن سے کی جائے اور بڑا احسان وہی ہے جو مخالفوں سے کیا جائے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم باوجود ان کی مخالفت کے ان کے ساتھ نیکی کا سلوک کریں اور ایسی کوئی حرکت نہ کریں جو عداوت کا پہلو اپنے اندر رکھتی ہو۔پھر ہمیں خوشی بھی ہے کہ جہاں ہمیں اپنے مخالفوں کی طرف سے بہت سی تکلیف کی باتیں سننی پڑیں وہاں بہت سی خوشگوار باتوں کا بھی ان کی طرف سے ظہور ہوا انہوں نے باوجود عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف رکھنے کے جس اخلاص اور محبت سے ہمارے افسر بن کر نہیں ، ہمارے برابر ہو کر نہیں بلکہ ہماری ماتحتی میں کام کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس قدر قابل تعریف ہے کہ میں کہہ سکتا ہوں انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا اور ہمارے دلوں میں انہوں نے اپنے اخلاص اور محبت کی وجہ سے جگہ حاصل کرلی۔انہوں نے جس خلوص دل کے ساتھ میرے ساتھ مل کر کام کیا ہے اسے دیکھ کر اس کام نے میرے دل میں خوشی کی لہر پیدا کر دی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ابھی مسلمانوں میں جب ایسے لوگ موجود ہیں تو یقیناً ان میں اتحاد کا رستہ بند نہیں ہوا بلکہ ابھی باقی ہے اور ہم اس پر چل کر مسلمانوں میں کامل طور پر اتحاد پیدا کر سکتے ہیں لیکن اگر یہ نہ بھی ہوتا اور سارے مسلمان بالاتفاق ہمارے خلاف ہوتے تب بھی میں یہی کہتا کہ ان مصیبتوں سے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں یہی تو وہ چیز ہے جس کی ہم انتظار کر رہے تھے۔پس مصیبتوں کی وجہ سے اور مختلف شہروں میں اپنی جماعت کی مخالفت کو دیکھ کر اپنے قدم کو ست مت ہونے دو اور یہ اچھی طرح سمجھ لو کہ یہی چیزیں ہیں جو انسان کو خدا کا مقرب بنا دیتی ہیں۔اگر ہم محض اس وجہ سے کہ لوگ ہمارے دشمن ہیں ہم پر مختلف قسم کے الزام دھرتے اور ہمیں بد نام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان سے الگ ہو جائیں تو