خطبات محمود (جلد 13) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۳۱ء ہمیں جب یہ فتح حاصل ہوئی ہے تو اگر چہ اس میں شبہ نہیں میں اس کمیٹی کا پریذیڈنٹ ہوں جس نے یہ تمام جد و جہد کی مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ احمدیوں کی کمیٹی نہیں تھی صرف دو احمدی اس میں شامل تھے باقی سب احمدیت سے اختلاف رکھنے والے تھے لیکن باوجود اختلاف عقائد کے انہوں نے نہایت دیانتداری سے کام کیا ہے اور شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے ایسے اخلاص اور سرگرمی سے اس کام میں حصہ لیا ہے کہ مجھے یقین ہو گیا ہے مسلمانوں میں اتحاد کا راستہ کھلا ہوا ہے اور ان کا مطلع ایسا تاریک نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔مگر ساتھ ہی ایک اور گروہ ہے جس نے ہماری مخالفت بھی کی اور بعض جگہ انہوں نے ایسی سخت مخالفت کی کہ احمدیوں کا بازاروں میں چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ہے انہوں نے بعض جگہ عورتوں کو اور بعض جگہ بچوں اور بوڑھوں تک کو پیٹا اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا ہم احمدیت کو کچل کر رکھ دیں گے۔قادیان اپنے جتنے بھیجیں گے اور احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیں گے حالانکہ اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اور جیسا کہ ہم یقین رکھتے ہیں یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے تو پھر کسی کی مجال نہیں کہ اس کو تباہ کر سکے بلکہ اگر دنیا کے سارے بادشاہ مل کر بھی کہیں کہ ہم احمدیت کو دنیا سے مٹا کر رکھ دیں گے تو میں انہیں کہوں گا ایاز قدرے خود را بشناس تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم اس الہی سلسلہ کو مٹا سکو پہلے اپنی حیثیت دیکھو اور پھر اپنے منہ سے ایسی بات نکالو۔پس ان دھمکیوں سے تو نہ ہم پہلے کبھی ڈرے اور نہ اب ڈر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہے اور وہی ہمیشہ اس کی حفاظت فرمائے گا۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ مومنوں پر ہمیشہ عارضی تکلیفیں آیا کرتی ہیں اور آج کل تو ہمارے خلاف کچھ اس قسم کا جوش پایا جاتا ہے کہ کوئی تعجب نہیں ہم پر وہی وقت آجائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی ایام میں جماعت پر آیا تھا مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی سے بعض لوگ ان معمولی تکلیفوں کی وجہ سے گھبرا رہے ہیں حالانکہ اگر اللہ تعالی ان مصائب کی وجہ سے ہمارے اندروہی زمانہ لے آئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا زمانہ تھا تو ہم سے بڑھ کر خوش قسمت اور مبارک شخص اور کون ہو سکتا ہے۔تم میں سے کتنے ہیں جو حسرت اور افسوس سے کہا کرتے ہیں کاش ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا زمانہ پاتے۔وہ وقت گزر گیا اور تم میں سے بعض نے دیکھا اور اکثروں نے نہ دیکھا لیکن اگر خدا اب مصائب کے ذریعہ سے ہی وہی زمانہ ہمارے اندر لے آنا چاہتا ہے تو یہ مصیبتیں کیا ہیں ہمارے لئے راحت اور خوشی کا باعث ہیں اور جنت ہیں جس کی ہم تمنا کیا کرتے ہیں پس میں