خطبات محمود (جلد 13) — Page 279
محمود ۲۷۹ سال ۱۹۳۱ء وہاں آزادی کی کیا قدروقیمت ہے۔ہمیشہ ہماری مساجد میں خطبے پڑھے جاتے ہیں اور حکومت کا کوئی قانون انہیں بند نہیں کر سکتا۔اگر ہندوستان میں کسی جگہ ہمیں یہ نظارہ دکھائی دے کہ خطیب کو خطبہ پڑھتے ہوئے روک دیا جائے اور اسے پولیس والے یہ کہہ کر خطبہ پڑھنے سے منع کر دیں کہ اس کی حکام سے کیوں اجازت نہیں لی گئی تو بتلاؤ ہندوستان کے لوگ کس حد تک اشتعال میں نہ آجائیں گے اور کیا اس وقت ایک بھی شخص ایسا ہو گا جو یہ کہے کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے غیر سیاسی نہیں۔مگر کشمیر میں ہوتا رہا ہے کہ خطیب خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا مگر پولیس والوں نے اسے روک دیا اور کہا کہ تمہیں خطبہ پڑھنے کی اجازت نہیں۔اس کے لئے پہلے حکام سے اجازت حاصل کرو۔ہمارے ملک میں بازاروں میں تقریریں کی جاتی ہیں میدانوں میں تقریریں ہوتی ہیں مگر کوئی قانون انہیں نہیں روک سکتا۔جس قدر ہندوستان کے شہر ہیں ان میں چلے جاؤ کہیں بھی کھلی جگہ میں تقریریں کرنے کی ممانعت نہیں ہوگی۔جو معمولی گاؤں ہیں ان میں تو کبھی کبھار کوئی واعظ آجاتا اور وعظ کر دیتا ہے لیکن بڑے شہروں کے اگر چوک دیکھے جائیں تو ان میں روزانہ کوئی نہ کوئی آدمی کچھ نہ کچھ سناتا ہوا نظر آئیگا لیکن کشمیر کے لوگوں کو آج تک اس امر کی بھی اجازت نہیں تھی اور انہیں تقریر کے لئے سرکار سے اجازت لینی پڑتی تھی جو بسا اوقات نہیں ملتی تھی۔پھر ہمارے ملک میں اخبارات نکالنے کی عام آزادی ہے اور دراصل قومی ترقی کے لئے اخبارات کا وجود نہایت ضروری ہے کیونکہ جب تک ہم اپنے خیالات دو سروں تک نہ پہنچا ئیں اور ان کے خیالات سے خود فائدہ حاصل نہ کریں کس طرح ترقی کر سکتے ہیں۔ہندوستان میں نہایت ادنی اونی اقوام کے بھی اخبارات ہیں بلکہ ہمارے ملک میں جو قوم سب سے زیادہ ادنیٰ سمجھی جاتی ہے یعنی چوہڑے اور چہار ان کے بھی اخبارات اور رسالے ہیں۔بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی عزت کو لوگوں نے ضائع کیا خدا نے ضائع نہیں کیا۔مگر ایک وہ قوم ہے جسے لوگوں نے بھی ذلیل کیا اور خدا تعالیٰ نے بھی ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اسے ذلیل کیا یعنی کنجروں کی قوم اس کے اخبارات بھی ہندوستان میں پائے جاتے ہیں کوئی نہیں جو اخبارات روکے۔مگر کشمیر میں عملاً مسلمانوں کو اس آزادی سے محروم رکھا گیا اور اخبارات نکالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔بعض لوگوں نے تو بتایا کہ وہ متواتر پچیس سال سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ انہیں اخبار نکالنے کی اجازت مل جائے مگر حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ملتی۔انگریزی علاقہ میں تو اتنا ہی ہے کہ اخبار نکالنے کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دی جاتی ہے اور وہ اسے منظور کر لیتا 7Z321777ZZE