خطبات محمود (جلد 13) — Page 234
خطبات محمود ۲۳۴ 26 26 روحانی اور دنیوی مراتب اربعہ (فرمودہ ۷ - اگست ۱۹۳۱ء بمقام شمله) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے پچھلے جمعہ میں یہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالی نے ہمیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھائی ہے یعنی اے خدا تو ہمیں سیدھا رستہ دکھا مگر کیا سیدھا رستہ ہو ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا۔دوسری جگہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی یہ تشریح فرمائی ناوالَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ " صحیح راستے پر چلنے والے ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں کی جماعت صدیقوں کی جماعت ، شہیدوں کی جماعت، صالحین کی جماعت۔میں نے بیان کیا تھا کہ جس طرح ایک روحانی مقام صالح ہے اسی طرح دنیوی لحاظ سے بھی ایک مقام صالح ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس زمانہ کے مطابق بنائے جس میں کہ وہ رہتا ہے۔مگر یہ مطابق کرنا اچھے طور پر ہو نہ کہ برے طور پر یعنی وہ زمانہ کی بدیوں سے بچے اور نیکیوں کو حاصل کرے جو نئے علوم نکلیں ان سے واقفیت حاصل کرے۔اگر ان میں کوئی نقص ہو تو اسے قبول نہ کرے اور جو حقیقت اور صداقت ہوا سے تسلیم کرلے۔اپنے ملک کے کالجوں کے طلباء کی طرف دیکھو وہ نئے علوم تو سیکھتے ہیں اور اپنے تئیں زمانہ کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر چونکہ ان شخصوں کی کتابیں پڑھتے ہیں اور ان کے علوم سیکھتے ہیں جنہوں نے انہی علوم کی بناء پر ایک انسان کو خدا ثابت کرنا چاہا اس لئے ہمارے طلباء ان علوم سے خدا تعالی کی ہستی کے منکر ہوئے جاتے ہیں۔وہ مسئلہ ارتقاء کو ہستی باری تعالٰی کے مخالف سال ۱۹۳۱ء