خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 214

خطبات محمود ۲۱۴ سال ۱ بجائے کسی اور طریق کے بیعت کے ذریعہ سے دور کردے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ دعا کریں اللہ تعالی انہیں بھی بیعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے تا دشمنوں کے تمام اعتراضات کا قلع قمع ہو جائے۔اس کے بعد میں احباب کو بتانا چاہتا ہوں کہ تین چار دن ہوئے جماعت اہلحدیث کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس میں مجھے مباہلہ کا چیلنج دیا گیا ہے۔چیلنج دینے والے گھر یالہ ضلع لاہور کے کوئی شخص سید محمد شریف صاحب ہیں۔جو اپنے آپ کو امیر جماعت اہلحدیث لکھتے ہیں۔میں نے پہلے ان کا نام نہیں سنا ہو ا تھا مگر دوستوں نے بتایا کہ واقعی وہ اہلحدیث کے ایک حصہ کے سردار ہیں اور اہلحدیثوں نے ایک جلسہ کر کے انہیں اپنا امیر تسلیم کیا تھا۔بہر حال میں نے ان کا نام سنا ہو یا نہ اس میں شبہ نہیں کہ جب اہلحدیثوں نے انہیں اپنا سردار منتخب کیا تو ان میں انہوں نے ضرور کوئی خاص خوبی دیکھی ہوگی۔بٹالہ کی انجمن اہلحدیث کی طرف سے جب مجھے وہ اشتہار پہنچا تو اس میں انہوں نے یہی لکھا کہ ہم اپنے امیر کی طرف سے یہ اشتہار آپ کو بھیج رہے ہیں۔اسی طرح امرتسر کی جماعت غزنویہ کے جو صاحب سیکرٹری ہیں ان کی طرف سے بھی جب اشتہار آیا تو اس میں بھی انہوں نے یہی لکھا کہ میں اپنے امیر کی طرف سے یہ اشتہار آپ کی طرف بھیج رہا ہوں اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ وہ جماعت اہلحدیث کے امیر ہیں اس میں ضرور کوئی صداقت پائی جاتی ہے اور پنجاب کے اہلحدیثوں کا کچھ حصہ انہیں سردار تسلیم کرتا ہے۔اس اشتہار کی عبارت میں شرارت نہیں پائی جاتی۔آگے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ تفصیلات کے مطے کرنے میں ان کا کیا رویہ ہو جائے۔مگر اب تک اس اشتہار سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ چیلنج دینے والا خواہش رکھتا ہے کہ دونوں فریق میں مباہلہ ہو اور دنیا پر کھل جائے کہ صداقت کس طرف ہے اور جھوٹ کس طرف۔یہ ہمارے لئے نہایت خوشی کی بات ہے کہ وہ موقع جس کی تلاش میں ہم مدتوں سے تھے وہ امیر جماعت اہلحدیث کے چیلنج کی وجہ سے ہمیں میسر آ گیا۔مگر مباہلہ کے متعلق قرآن مجید سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مباہلہ ایک جماعت سے ہونا چاہئے۔چنانچہ جس آیت میں مباہلہ کا ذکر ہے اس میں یہی آتا ہے قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ اس میں جس قدر صیغے ہیں سب کے سب جمع کے ہیں جس سے صاف طور پر معلوم ہو تا ہے کہ مباہلہ دراصل دو جماعتوں کے درمیان ہوتا ہے۔ضرورتا اور احتیاجا بعض دفعہ افراد سے بھی