خطبات محمود (جلد 13) — Page 180
خطبات محمود • وہ دار کرتا اس کا ہتھیار اس سے چھین لیا گیا۔پھر چوتھے نے وار کیا مگر خدا نے وہی وار اس پر وارد کر دیا۔چار وار ہیں اور دراصل یہ چار دہائیوں کے قائم مقام ہیں۔ہم اس وقت تک چار دہائیاں ختم کر چکے ہیں یعنی جماعت کی چالیس سالہ زندگی پوری ہوئی۔اور ہر دس سالہ زندگی پر دشمن نے خار کھائی۔پہلے دس سال میں مجددیت کے مقابلہ میں دشمن کھڑا ہوا۔دوسرے دس سالوں میں خدا نے نبوت کی تشریح کرائی۔تیسرے دس سال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے جو اندرونی دشمن تھے ان کا مقابلہ کرایا۔اور چوتھے دس سال میں سلسلہ کی بنیاد مختلف بلاد میں مضبوط کر دی۔پس یہ چار ترقیات ہیں جو جماعت کو حاصل ہوئیں اور یہ چار دور ہیں جن سے ہماری جماعت گذری اور ہر ترقی پر دشمن نے ہمارا مقابلہ کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ابھی یہ چار دوار اور کس رنگ میں کب اور کس شکل میں ہوں گے مگر اتنا ضرور ہے یہ چاروں کے حملے جاری رہیں گے پس ہمیں بھی ان حملوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اور اس خوشی کا بھی اظہار کرنا چاہئے جو چالیس سال دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا ہے اور ہمیں اپنے عمل اور طریق سے دشمن کو بتا دینا چاہئے کہ مومن کبھی بزدل نہیں ہو تا۔یادر کھو اللہ تعالی کی نصرتیں اسی وقت تک آنے سے رکی رہتی ہیں جب تک دلوں میں بزدلی اور دشمنوں کا خوف کایا ہوا ہو۔تمہارے رستہ کی ساری روکیں صرف تمہاری طرف سے ہیں دشمنوں کی طرف سے نہیں۔خدا تعالیٰ نے دشمنوں کی پیدا کردہ روکوں کے متعلق تو بہت پہلے سے کہہ دیا ہے کہ میں انہیں دور کر دوں گا اور مخالفوں کو ان کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔اس نے پہلے سے کہہ رکھا ہے دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا "۔پس دشمنوں کے تباہ ہونے کی خبر تو تمہیں پہلے سے مل چکی ہے اب صرف ایک ہی چیز ہے جو تمہاری ترقیات میں روک ہے اور وہ تمہاری اپنی بزدلی اور خوف ہے۔اللہ تعالی گو روحانی سلسلوں کے دشمنوں کو تباہ ضرور کرتا ہے مگر اپنے بندوں کے ہاتھوں سے ہی کراتا ہے۔اگر بندے غفلت سے کام لیں بزدلی دکھا ئیں اور ایسی زندگی بسر کریں جس میں ہو شیاری نہ ہو تو گو پھر بھی اس کی نصرت آتی ہے مگر دیر سے اور اگر دلیر ہوں جری ہوں اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے پر آمادہ ہوں تو بہت جلد اس کی مدد آتی ہے۔پس دلیر بنو اور تکالیف کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔