خطبات محمود (جلد 13) — Page 152
خطبات محمود ۱۵۲ سال ہیں۔اگر فی الواقع ہماری مشکلات تھوڑی ہیں اور ہمیں ان مصائب کا سامنا نہیں جن کا سامنا صحابہ کو کرنا پڑا تھا تو ہم رسول کریم می و مسلم کی امت بھی نہیں اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپکے بروز ہو سکتے ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ رسول کریم میں دوبارہ دنیا میں آئیں مگر ابو جہل نہ آئے۔جس طرح ممکن نہیں کہ موسیٰ آئے مگر فرعون نہ آئے اسی طرح نا ممکن ہے کہ محمد رسول الله می ہو تو آجائیں مگر عقبہ اور رشیبہ وغیرہ نہ آئیں۔اللہ تعالی کی سنت یہی ہے کہ جب آدم مبعوث ہو تو ابلیس بھی آئے۔اور جب محمد رسول اللہ من آئیں تو ابو جہل اور دوسرے معاند بھی پیدا ہوں۔پس جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بروز ہیں محمد رسول اللہ کے تو اس زمانہ میں ضروری ہے کہ عقبہ ، شیبہ ابو جہل اور دوسرے دشمن بھی پیدا ہوں اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنا پڑے۔مجھے متواتر اپنی جماعت کو بیدار کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور بتانا پڑتا ہے کہ ان کے سامنے ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جس کے لئے دن اور رات کی محنت کی ضرورت ہے۔قسم قسم کی روکیں ہیں جو ہمارے راستہ میں حائل ہیں ہر قسم کے دشمن ہیں جو چاروں طرف سے ہمارا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔میں جانتا ہوں اتنی بیداری تو کم از کم ہماری جماعت میں ضرور موجود ہے کہ جب توجہ دلائی جائے تو کو بعض پھر بھی سوئے رہتے ہیں مگر اکثر اٹھ بیٹھتے ہیں اور کام کرنا شروع کر دیتے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ پھر سو جاتے ہیں اور ان مشکلات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ان کے سامنے ہیں۔اور کئی تو ایسے ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ بجائے سخت راستہ پر چلانے کے میں انہیں آرام دہ راستہ پر چلاؤں اور بجائے مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے کہنے کے آرام و آسائش کی زندگی بسر کرنے دوں۔ایسے لوگوں کو نظر انداز کر کے باقیوں کی یہ حالت ہے کہ جب توجہ دلائی جائے تو بیدار ہو جاتے ہیں اور گو یہ حالت ایسی خوش آئند نہیں جس پر اطمینان کیا جا سکے لیکن بہر حال یہ حالت مردنی پر دلالت نہیں کرتی کو اسے اعلیٰ درجہ کی زندگی بھی نہیں کہا جا سکتا۔مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے اندر کامل زندگی پیدا کرلی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر کوئی بھی خلافت نہ ہوئی سلسلے کا کوئی بھی نظام نہ ہو تا تب بھی وہ اسی ذوق شوق سے کام کرتے کیونکہ انہوں نے محسوس کر لیا ہے کہ سلسلہ کا کام کسی خاص شخص کا کام نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری ہر شخص پر عائد ہوتی ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو ایسا ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھ کر سلسلہ کا کام کرے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ بغیر اچھے سوار کے اچھی طرح گھوڑا نہیں چلتا مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ اچھے سوار کے لئے اچھے گھوڑے کی بھی