خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 140

خطبات محمود ۱۴۰ سال ۱۹۳۱ عو فوج کو تباہ کر سکتا ہے۔مگر جس صورت میں فوج پہلے ہی قلیل ہو تو پھر اس۔بچنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔اور دشمن ایک ایک آدمی چن کر قتل کر سکتا ہے۔اگر خدا کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو اس دن ایک مسلمان کا بچنا بھی محال تھا کیونکہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور پھر بازو سے شکست ہو چکی تھی۔اس وقت مسلمانوں کی عورتوں نے لشکر کو بچایا۔جو لوگ پیچھے ہے ان میں ابو سفیان بھی تھے۔وہ اگر چہ بڑے بہادر تھے اسلام میں بڑے بڑے کام کر چکے تھے اور اعلیٰ درجہ کے جرنیل تھے مگر جب باقی لشکر پیچھے ہٹا تو ان کو بھی ہٹنا پڑا۔اس وقت ان کی بیوی ہندہ جو مسلمانوں میں غضبناک نگاہوں سے دیکھی جاتی ہے لکڑی ہاتھ میں لے کر آگے بڑھی اور اپنے خاوند کے گھوڑے پر مار کر کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی کفر کی حالت میں تو اسلام کا اس قدر مقابلہ کیا اور اب اسلام کی حالت میں پیچھے بھاگتے ہو۔ابو سفیان کی طبیعت بامذاق تھی وہ یقیناً بہادر آدمی تھے صرف ساتھیوں کے پیچھے ہٹنے نے انہیں مجبور کر دیا تھا کہ پیچھے ہٹیں۔لیکن جس وقت ہندہ نے یہ فقرہ کہا تو انہوں نے چیخ کر ساتھیوں کو پکارا اور کہا واپس آؤ۔یہ بھاگنے کی موت اس موت سے بہت بد تر ہے جو میدان جنگ میں آئے۔چنانچہ مسلمان پھر آگے بڑھے اور میدان مار لیا۔تو عورت کا ایک فقرہ تھا جس نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔اور یہاں تک لکھا ہے کہ نصف گھنٹہ تک عورتیں خود لڑتی رہیں اور جو Gap ہو گیا تھا چو میں قناتیں غرضیکہ جو کچھ کسی کے ہاتھ آیا لے کر اس کی حفاظت کرتی رہیں۔یہاں تک کہ مسلمانوں کا لشکر کوٹ کر واپس آگیا۔اسی طرح ایران سے ایک جنگ کے موقع پر بھی یہ خیال کیا جاتا تھا کہ مسلمان ہیں ڈالے جائیں گے کیونکہ اس سے پہلے روز مسلمان سخت زک اٹھا چکے تھے اور ان کے قریباً بیس ہزار آدمی شہید ہو چکے تھے۔مسلمانوں کا اس قدر جانی نقصان اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔اس وقت ایک عورت تھی جس کے تین چار لڑکے لڑائی میں شریک تھے ہمارے ملک کی اگر کوئی عورت ہوتی تو اول تو وہ اپنے ایک بچہ کو بھی جنگ میں شامل نہ ہونے دیتی اور اگر بہت ہی مجبور کیا جاتا تو ایک دو کو بھیجتی اور ایک دو اپنے پاس رکھتی اور جسے بھیجتی اسے بھی یہی نصیحت کرتی کہ بیٹا دیکھنا بڑھیا ماں کا خیال کرنا اور اپنی جان کی فکر رکھنا۔مگر وہ ماں اور بڑھیا ماں جس کا نام خنساء تھا تین دن کی لڑائی کے بعد جب بظاہر مسلمانوں کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی کیونکہ مسلمانوں کو پہلی دفعہ ہاتھیوں سے مقابلہ پڑا تھا اور وہ انہیں پاؤں میں کچلتے جاتے تھے ، آئی اور اپنے بیٹوں سے کہا میں نے تمہارے باپ دادا کی عزت میں کبھی خیانت نہیں کی اور امید کرتی ہوں کہ اس خدمت کے