خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 139

L خطبات محمود ۱۳۹ سال ۱۹۳۱ء تھی اور خیال ہے کہ اگر وہاں سے تو ہیں ہٹائی نہ جاتیں تو شاید غدر کا نتیجہ بالکل الٹ ہو تا۔زینت محل نے بادشاہ سے کہا کہ میرا تو دل گھٹتا ہے اور میں بے ہوش ہو جاؤں گی۔یا تو یہاں سے تو ہیں اٹھوا دو اور یا پہلے مجھے مار دو۔بادشاہ نے اس کے کہنے پر تو ہیں وہاں سے ہٹوا دیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے حکومت نکل گئی۔اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو بادشاہ پر زینت محل کے اس بہانہ کا اسی وجہ سے اثر ہوا کہ وہ جانتا تھا یہ تو پوں کی آوازیں سننے کی عادی نہیں۔اگر اس کے سامنے پہلے بھی تو ہیں چلتی رہی ہو تیں تو اس وقت وہ ہر گز یہ بہانہ نہ بنا سکتی کیونکہ بادشاہ کہہ سکتا تھا جب پہلے تم ان کی آوازیں سنتی رہی ہو تو آج کیوں بے ہوش ہو جاؤ گی۔تو عورتوں کو دلیری اور حوصلہ کے کاموں سے الگ رکھنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ زینت محل نے بادشاہ کو دھوکا دیدیا۔حضرت عائشہ کوئی جنگی منظر دیکھ کر ہر گز یہ نہ کہہ سکتی تھیں کہ میرا دل گھٹتا ہے کیونکہ رسول کریم انہیں جنگی کرتب دکھاتے اور جنگ میں ہمیشہ کسی نہ کسی بیوی کو ساتھ رکھتے تھے۔اس سے بعض نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سفر میں بیوی کو ساتھ رکھنا سنت ہے۔بے شک ہے مگر اس سے بڑی سنت یہ ہے کہ عورتوں کے اندر جرات اور بہادری پیدا کی جائے کیونکہ جب تک ان میں بهادری نہ ہو کوئی قوم جیت نہیں سکتی۔قومی ترقی میں سب سے بڑی روک عورت کی بزدلی ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہمارے گھر میں کوئی سیڑھی سے گر پڑا میں اسے بچانے کے لئے کودنے لگا تو میری بیوی مجھے چمٹ گئی کہ ایسانہ کرو - آخر مجھے دھکا دیکر اسے پیچھے ہٹانا پڑا۔بجائے اس کے کہ وہ یہ خیال کرتی کہ میرا خاوند اسی وقت محبت کے قابل ہو سکتا ہے جب اس کے دل میں جرات اور بہادری ہو اس نے الٹا مجھے روکنا چاہا۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ عورتوں کو دلیر بنائے۔صحابہ نے عورتوں کی بہادری سے بڑے بڑے فائدے اٹھائے ہیں۔جنگ یرموک میں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی نازک موقع تھا۔اس میں عیسائیوں کے لشکر کی تعداد چھ سے دس لاکھ بیان کی جاتی ہے۔اور روم کا بادشاہ یہ عہد کر کے آیا تھا کہ یا تو میں مسلمانوں کو تباہ کر دوں گا یا خود واپس نہیں آؤں گا اور اگر چہ وہ خود جنگ میں تو شامل نہ ہو اگر ان کے پیچھے تمام انتظامات کر تا رہا تھا اور اس نے اپنے لشکر کے کمانڈر سے جس کا نام غالبا ما ہا ن تھا وعدہ کیا تھا کہ اگر تم کامیاب ہو گئے تو میں اپنی لڑکی کی شادی تمہارے ساتھ کردوں گا۔اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی اور ان کے میسرہ کو شکست ہو گئی۔اول تو کسی وقت بھی پہلو کو شکست ہو تو بہت خطرہ ہوتا ہے کیونکہ دشمن گھیرا ڈال کر ساری