خطبات محمود (جلد 13) — Page 135
خطبات محمود ۱۳۵ 15 سال ۱۹۳۱ء خُذُوا حِذْرَكُمْ کے حکم الہی پر عمل کرو فرموده ۱۰ اپریل ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب وہ کسی قوم سے نیک سلوک کرنا چاہتا ہے تو اس کے اندر اپنے فضل سے استغفار کا مادہ بھی پیدا کر دیتا ہے۔یعنی جب وہ کسی قوم کو تباہی سے بچانا چاہتا ہے تو اس کے اندر استغفار کی روح پیدا کر دیتا ہے۔اور جب کسی قوم کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اس کے دل میں ہوشیاری اور بیداری کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ایک ہی قسم کے آدمی ہوتے ہیں ، ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے ہیں ، ایک ہی ملک کے رہنے والے ہوتے ہیں ، ایک ہی خاندان کے افراد ہوتے ہیں مگر بعض ان میں سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جاتے ہیں اور بعض محروم رہ جاتے ہیں۔اور دونوں اپنی زندگی اپنے اعمال اپنے افعال اور اپنے طریق کے لحاظ سے بالکل ایک دو سرے سے ممتاز نظر آتے ہیں۔رسول کریم میں تعلیم کے صحابہ بھی مکہ کے ہی لوگوں میں سے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ ان پر اپنے فضل نازل کرنے کا ارادہ فرمایا اس لئے ان کے اندرایسی ہوشیاری اور بیداری پیدا کر دی کہ جس کی وجہ سے دشمن باوجود کثیر تعداد میں ہونے کے ان کے مقابلہ سے عاجز آگئے۔مکہ کے سارے لوگ ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے تھے ، ایک ہی چشموں سے پانی پیتے تھے، ایک ہی قسم کی ضرورتیں دونوں کو لگی ہوئی تھیں کھانے پینے ، پہننے کے دونوں محتاج تھے مگر باوجود اس کے کہ احتیاجیں دونوں کو تھیں، قوم ایک ہی تھی، ملک ایک ہی تھا زمانہ اور وقت ایک ہی تھا۔پھر صحابہ میں ایسی ہو شیاری اور بیداری تھی کہ ان کے مقابلہ میں کفار کی کوئی حقیقت ہی معلوم نہیں ہوتی۔