خطبات محمود (جلد 13) — Page 94
خطبات محمود ۹۴ 11 قومی اصلاح کے لئے عملی کوشش (فرموده ۱۳ مارچ ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- جلسہ سالانہ کے بعد سے برابر مجھے کھانسی کی تکلیف رہی ہے۔کچھ دنوں جو باہر جا کر رہا ہوں اس سے بہت افاقہ ہوا ہے مگر چونکہ کلی طور پر ابھی آرام نہیں ہوا۔اس سے ڈاکٹر صاحب نے لمبے خطبے یا لمبی تقریر سے روکا ہے۔اس وقت تک کہ خدا تعالٰی کے فضل سے یہ شکایت جاتی رہی ہے اس وجہ سے میں آج کوئی لمبا خطبہ پڑھنے کے لئے تو کھڑا نہیں ہوا لیکن میں سمجھتا ہوں وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی ہر رنگ میں تنظیم کریں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ میں متواتر ایسے خطبات پڑھوں جو جماعت کی تنظیم اور نظام کے لئے مفید اور ضروری ہوں۔میں نے جب سے خطبات پڑھنے شروع کئے ہیں اور حضرت خلیفہ اول کی زندگی سے ہی یہ سلسلہ شروع ہے کیونکہ ۱۹۱۰ء میں جب آپ گھوڑے سے گرے تو جمعہ پڑھانے کے لئے مجھے ہی مقرر فرمایا تھا۔پس ان کی زندگی میں بھی قریباً تین سال تک میں ہی خطبات جمعہ پڑھتا رہا ہوں۔سوائے ان چند ناغوں کے جو اس وجہ سے ہوئے کہ کبھی آپ کی طبیعت اچھی ہوئی تو آپ نے خود آکر پڑھا دیا یا اگر میں یہاں نہ ہوا تو کسی اور نے پڑھا دیا اور اس طرح قریباً بیس سال ہو گئے ہیں کہ میں جمعہ پڑھاتا ہوں۔اس سارے عرصہ میں بالعموم میں نے اس بات کا لحاظ رکھا ہے کہ ایسا خطبہ پڑھوں جس سے پیش آمدہ حالات میں راہ نمائی ہو اور جو جماعت کی تعلیم و تربیت کے لئے مفید اور ضروری ہو۔مگر میں دیکھتا ہوں صرف خطبات جب تک اسباب کی صورت میں اس کے ساتھ تعلیم نہ ہو۔زیادہ موثر نہیں ہو سکتے۔بے شک خطبہ سے انسان کے اندر جوش پیدا ہو جاتا ہے مگر وہ مدرسہ کی پڑھائی جیسا کام