خطبات محمود (جلد 13) — Page 86
خطبات محمود ۸۶ 10 شجر احمدیت کے پھل لانے کا وقت فرموده ۶ - مارچ ۱۹۳۱ء بمقام پھیر و چیچی) ۱۹۳۱ء تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی کے بعد فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی روشنی آتی ہے تو شروع شروع میں اس کا اثر نہایت ہی محدود ہوتا ہے۔ بظاہر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ابھی اندھیرا ہی ہے لیکن آہستگی کے ساتھ وہ اپنا کام وہ کرتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن ایسا آجاتا ہے جبکہ یکدم دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا ہو جاتا ہے اس کی مثال بالکل دنیا کی روئید گیوں کی سی ہوتی ہے جیسے مثلا کھیتیاں اگتی ہیں گیہوں اکتوبر میں بوئی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ مارچ میں آکے یکدم بالیں نکل آتی ہیں اور اپریل میں کاٹی جاتی ہے پہلے چار ماہ تک وہ گھاس ہی ہوتی ہے اور کیا ہوتی ہے اگر اس چار ماہ کے عرصہ پر ہی وہ ختم ہو جائے تو محض بھوسہ ہی ہو گی وہ بھی ردی قسم کا۔ اس کا اصل کام آخری دو ماہ بلکہ ڈیڑھ ماہ میں ہوتا ہے یہی ترکاریوں کا حال ہوتا ہے مہینوں سبزہ رہتا ہے جو گھاس کی طرح پھیلا ہوتا ہے پھر چند دن میں پھل لگنا شروع ہو جاتا ہے اور جلدی جلدی مقصد پورا ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح درخت لگائے جاتے ہیں ان کے پھل کے لئے سالہا سال انتظار کرنا پڑتا ہے ابتداء میں ایک پھل دار درخت محض لکڑی ہی ہوتا ہے لیکن جب اس کی نشوو نما کے مکمل ہونے کا زمانہ آتا ہے تو چند دن میں اسے بور آجاتا ہے پھر پھل لگتا ہے جسے لوگ کھانے لگ جاتے ہیں۔ یہی اللہ تعالیٰ کے سلسلوں کا حال ہوتا ہے ۔ جب وہ دنیا میں قائم کئے جاتے ہیں تو نہایت کمزور ہوتے ہیں مگر وہ ترقی کرتے۔ روہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں جیسے گیہوں کا پودا جب بڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کا پھل نظر نہیں آتا اور لوگ کہتے ہیں یہ گھاس ہی ہے جس طرح ایک پھل دار درخت ترقی کر رہا ہوتا ہے