خطبات محمود (جلد 13) — Page 79
خطبات محمود 49 سال ۱۹۳۱ مسجدیں نہیں اور جہاں ایک ایک دو رو احمدی ہیں وہ اگر غیر احمدیوں کی مسجدوں میں نماز پڑھیں تو انہیں تنگ کیا جاتا اور مارا پیٹا جاتا ہے اس لئے وہ گھروں میں نماز پڑھتے رہے اپنی کو تاہی اور سستی کی وجہ سے نہیں بلکہ حالات کی وجہ سے مگر اب ان میں نقص پیدا ہو گیا ہے کہ وہ عموماً فرض نمازیں بھی گھروں پر پڑھ لیتے ہیں اور جہاں جہاں مسجدیں بن گئی ہیں وہاں بھی مساجد میں نماز پڑھنے کے لئے لوگ تھوڑے آتے ہیں۔ ہماری جماعت کے دوستوں میں دین کے لئے جوش بھی ہوگا۔ اخلاص بھی ہو گا ۔ محبت بھی ہو گی مگر نمازیں گھروں میں پڑھیں گے۔ اس کے مقابلہ میں ایک غیر احمدی چاہے اس کی نماز ظاہر داری کے لئے ہی کیوں نہ ہو اور خواہ اس کی نماز پریشان خیالات کا مجموعہ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ مسجد میں نماز کے لئے جائے گا۔ ہمارے دوست نماز پڑھتے وقت بے شک اتنے خضوع اور تضرع سے نماز پڑھیں گے کہ ان کی گھگھی بندھ جائے گی اور رو رو کر اپنی سجدہ گاہ تر کر دیں گے مگر عموماً نماز پڑھیں گے تو گھروں میں۔ یہ نقص ہے جو مخصوص حالات کی وجہ سے ہماری جماعت میں پیدا ہو گیا ہے ۔ ہو یہ چار ذرائع ہیں جن کی وجہ سے کسی قوم میں بدیاں پھیلتی ہیں۔ پس ہمیں ان چاروں کے ما تحت غور کرنا چاہئے کہ کون کون سی بدیاں ان سے پیدا ہو سکتی ہیں اور پھر ہمیں اپنی قوم کو دیکھنا چاہئے کہ اس کی کیا حالت ہے ۔ اگر وہ بدیاں ہمیں اپنے اندر نہ بھی ملیں تب بھی ہمیں اپنے بچاؤ کا سامان کرنا چاہئے۔ اور ایسے ذرائع سوچنے چاہئیں جن کے ماتحت ایسی بدیاں ہم میں داخل ہی نہ سکیں۔ عقل مند کا کا ر کا کام یہ ہوتا ہے کہ حفظ مان ما تقدم کرتا ہے۔ مثلاً انفلوئنزا جب آتا ہے تو ہم پہلے سے ہی اس کے لئے حفظ ما تقدم کی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہم اس وقت کا انتظار کریں جب ہمیں زکام لگ جائے اور چھینکیں آنی شروع ہو جائیں یا مثلا جب طاعون پھیلتی ہے تو ہم گلٹی کے نکلنے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ ابھی ہماری غدود میں بھی نہیں پھولتیں اور کوئی بھی اثر ہمارے جسم پر نہیں ہو تاکہ ہم شہر سے باہر کھلی ہوا میں چلے جاتے ہیں۔ اور اگر ہم انتظار کریں کہ پہلے غدودیں پھول لیں پھر ہم علاج کریں گے تو یقیناً اس وقت کا علاج کار آمد ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ انسان کا بچنا محال ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ایسا انسان بیماری کو آپ بلاتا اور موت کو خود دعوت دیتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ ہماری نظر وسیع ہو اور ہم دیکھیں کہ کوئی بیماری ہم میں نہیں یا ہمارے ملک میں تو نہیں اور اگر ہمارے ملک میں وہ بدی موجود ہو تب بھی ضروری ہو گا کہ ہم اس کے ازالہ اور مقابلہ کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ اگر ہم ایسا کر سکے تو ایسی قومی بدیوں سے ہم