خطبات محمود (جلد 13) — Page 77
۱۹۳۱ ،، خطبات محمود لئے اگر وہ باتیں بری ہوں یا ان سے بد نتائج نکل سکتے ہوں تو ہر شخص اس برائی میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔مثلاً ہندو قوم کی تعلیمات میں اگر کوئی نقص ہو تو لازمی طور پر ان کی تمدنی و معاشرتی زندگی میں بھی اس سے برے نتائج رونما ہوں گے کیونکہ جب ہر شخص کو وہ عقائد رکھنے ضروری ہیں تو لازماً اگر ان عقائد کے بد نتائج پیدا ہو سکتے ہوں تو قوم کا ہر فرد اس کے برے نتیجہ میں گرفتار ہو جائے گا۔اب جو مسلمان قرآن مجید کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھتا ہے وہ بہر حال یہ بھی سمجھتا ہے کہ قرآن میں کسی قسم کا نقص نہیں اور اس کی کوئی تعلیم ایسی نہیں جو برے نتائج پیدا کر سکے یا جن کی وجہ سے کوئی بدی پیدا ہو جائے کیونکہ جب تعلیم بالکل بے عیب ہے تو اس کا برا نتیجہ کیونکر نکل سکتا ہے اور مسلمانوں میں برائی کہاں سے آسکتی ہے یہ ایک سوال ہے جو طبعاً ہر شخص کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے اور ہونا چاہئے لیکن اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے اگر چہ قرآن میں تو کوئی نقص نہیں مگر ایک بات ہے جسے ہم نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے قرآن کے سمجھنے میں نقص پیدا ہو جائے۔پس اگر چہ قرآن میں تو کوئی نقص نہیں لیکن جب اس کے معنے سمجھنے میں نقص پیدا ہو جائے تو یہ نقص تمام قوم کو متاثر کر دے گا۔اگر قرآن مجید کے مطالب سمجھنے میں بزرگوں نے بعض غلطیاں کی ہوں تو چونکہ دنیا اپنے بڑوں کے پیچھے پیچھے چلتی ہے اس لئے لازماً ایسی غلطیاں ساری قوم میں رائج ہو جائیں گی اور یہ فردی بدیاں نہیں کہلائیں گی بلکہ قومی بدیاں ہو جائیں گی۔ہماری جماعت چونکہ نئی جماعت ہے اور اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا ہے اس لئے پرانی روایات کا اگر چہ ہم پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا لیکن پھر بھی ہماری جماعت اس سے پورے طور پر محفوظ نہیں رہ سکتی کیونکہ اس میں کثرت انہیں لوگوں کی ہے جو پہلوں سے نکل کر آئی ہے۔یا ایسی اولادیں ہیں جو اپنے پرانے رشتہ داروں کے اندر رہتی اور اس طرح ان سے اثر قبول کرتی ہیں۔پس اگر ہم اپنی قومی بدیاں دیکھنا چاہیں تو اس کا بھی یہ ذریعہ ہے کہ غیر احمدیوں میں جو قومی نقائص ہیں ہم ان پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا ہم میں بھی تو وہی نقائص پیدا نہیں ہو رہے۔کیونکہ بیشتر حصہ ہماری جماعت میں انہی میں سے آیا ہے۔اور اگر چہ وہ احمدیت میں داخل ہو کر بدل گئے مگر چونکہ ایسے نقائص عادت کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں اس لئے جلدی نہیں چھٹ سکتے۔پس ایک تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ دوسروں میں کون کون سی قومی بدیاں ہیں اگر انہیں دیکھ کر ہم اپنی تشخیص کریں گے تو ہمارے لئے بہت ہی آسانی پیدا ہو جائے گی۔دوسری