خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 73

خطبات محمود ۷۳ سال ۱۹۳۱ء والے نئی روشنی کے دلدادہ سو میں سے ننانوے ا۔ ے ایسے ہوں گے جو ہوں گے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کے الفاظ خدا کے الفاظ نہیں بلکہ رسول کریم میر کے اپنے الفاظ ہیں ان میں بہت اچھے خیالات ہیں لیکن یہ کہ خدا تعالی کی طرف سے نازل ہوئے یہ ہم نہیں مان سکتے ۔ غرض اس زمانہ میں سب سے بڑا حربہ یہی چلا کہ الہام کیا چیز ہے ؟ یہ ایک وہم ہے جس میں لوگ مبتلاء رہے۔ میں کہتا ہوں خواہ تم کچھ کہو خود میرے کانوں نے جب خدا تعالیٰ کی آواز سنی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی غلامی کی وجہ سے سنی تو میں کسی طرح انکار کر سکتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہ صرف الہام ہوئے بلکہ آپ کی غلامی اختیار کرنے والے ہزاروں الہام پارہے ہیں۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ نبوت ایک حقیقی چیز ہے۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے دو مقام ظاہر فرمائے ایک کامل امتی بن کر امتیت کی جو شکل بگڑ چکی تھی اس کی اصلاح کی اور اصل شکل میں قائم کر کے اسے نئی زندگی بخشی۔ دوم نبی بن کر نبوت کا جو مقام رسول کریم میں اللہ نے آکر بتایا تھا اسے قائم کیا۔ اس طرح آپ کے ذریعہ دونوں مقام محمدیت کا اور احمدیت کا ظاہر ہوئے ۔ پس یہ بہت بڑی برکات کا زمانہ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ کب تک چلے مگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس کی برکات کو کانوں سے سناء آنکھوں سے دیکھا، جسموں سے محسوس کیا اور دعا کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہم اور ہماری نسلیں اور ان کی نسلیں جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو اور ہمیشہ ہی شامل ہو ان برکتوں سے حصہ پائیں :! اتر مذی ابواب الفتن باب ما جاء في الدجال الفضل ۳ - مارچ ۱۹۳۱ء)