خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 71

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء صلی وہی کہیں گے کیا یہ باتیں نہ ہوں تو ہم مسلمان نہیں رہتے۔ ان باتوں کا مسلمان ہونے سے کیا تعلق ۔ ان سے پوچھو ان باتوں کو چھوڑ کر اور کیا کرتے ہو کہ تمہیں مسلمان سمجھا جائے ۔ عقائد ان کے درست نہیں ، اعمال ان کے ٹھیک نہیں ، دعا پر انہیں ایمان نہیں ، قیامت ، جزاء و سزا کے وہ منکر ہیں ، تمام صفات سے معطل خدا خدا کو وہ مانتے ہیں رسول کریم ملی کو صرف ایک بڑا آدمی وہ قرار دیتے ہیں اور یہ نہیں مانتے کہ آپ میں سلیم پر خدا تعالیٰ کا الہام نازل ہوا پھر کون سی چیز مسلمان ہونے کی ان میں رہ گئی ہے۔ غرض اس زمانہ میں امتیت کا مفہوم بالکل بدل گیا تھا۔ پہلے تو فدائیت میں غلو کا غلو کا یہاں تک نظارہ نظر آتا ہے جو کام رسول کریم سلیم نے کیا صحابہ بھی وہی کرنا اپنے لئے خیر اور برکت کا موجب سمجھتے تھے۔ حتی کہ آتا ہے رسول کریم میں نے ایک دفعہ جہاں بیٹھ کر پیشاب کیا ایک صحابی وہیں بیٹھ گئے ۔ لیکن آج کل یہ حالت ہو گئی کہ رسول کریم می سلیم نے جو کچھ کیا اس میں سے کچھ بھی نہ کریں گے اور یہ احسان جتائیں گے کہ ہم نے محمد ی کو مان لیا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلا نے ایسے زمانہ میں ظاہر ہو کر بتایا کہ محمد سلم کا امتی کیسا ہونا چاہئے۔ آپ نے ایسی کامل اتباع کی کہ اس زمانہ میں بھی جسے روشنی کا زمانہ کہا جاتا ہے دنیا کو ماننا پڑا کہ ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جو رسول کریم میں ہیم کا متبع ہو جس کے پاس دنیا کے عقل مند آئیں اور اسے مانیں یہ نظارہ ہے جو آپ نے رسول کریم سی ایم کا امتی ہونے کا دکھایا ایک دفعہ ایک سٹیشن پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف رکھتے تھے کہ رات لیکرام نے آکر آ۔ نے آکر آپ کو سلام کیا۔ چونکہ وہ آریوں میں؟ میں بہت مشہور تھا اس لئے بعض ایسے لوگوں نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ تھے لیکن ان کی نظر وہاں تک نہ پہنچتی تھی جہاں تک خدا تعالیٰ کے نبی کی پہنچتی تھی انہوں نے سمجھا کہ لیکھرام کے آکر سلام کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بہت خوش ہوں گے اس۔ اس لئے انہوں نے کہا حضور بینڈت لیکھرام سلام کہتے ہیں مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا انہوں نے سمجھا آپ نے لیکھرام کو دیکھا نہیں۔ لیکھرام نے ام نے بھی میں خیال کیا اور دوسری طرف سے ہو کر پھر سلام ہو کر پھر سلام کیا اور بتانے والوں نے پھر اس کا نام لیا۔ آپ نے فرمایا اسے شرم نہیں آتی میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے۔ یہ وہ نظارہ تھا جو امتی ہونے کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اس موقع پر دکھایا۔ غرض آپ نے آکر موجودہ زمانہ کے دونوں بڑے نقص دور کر دیئے نبی ہونے کا انکار کرنے والوں کے لئے نبی ہو کر اور امتی کی حقیقت سے ناواقف ہو جانے والوں کے لئے امتی پنڈت