خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 665

خطبات محمود ۶۶۵ سال ۱۹۳۲ء پس وہ نعمتیں موجود ہیں اور تم ان میں سے اپنا حصہ حاصل کر سکتے ہو۔خدا تعالیٰ کا دیا ہو ا حصہ پھینکا نہیں جاتا وہ محفوظ ہے جو چاہے لے لے۔باپ کی وفات پا جانے کے بعد اس کی جائیداد بانٹی جاتی ہے۔ہاں جو بیٹا کہتا ہے میں اپنا حصہ نہیں لیتا وہ خود محروم رہ جاتا ہے۔ہمارے روحانی باپ کی دولت ہمارے لئے موجود ہے۔اور ہر ایک کا حصہ خدا تعالیٰ نے تقسیم کر دیا ہے۔ہاں جو خود نہ لینا چاہے اس کی مرضی۔رسول کریم میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر کا فرو مومن کا ایک گھر جنت میں ہوتا ہے اور ایک دوزخ میں۔اس کا مطلب یہی ہے کہ ہر شخص کے اندر ایک طاقت ایمان کی اور کفر کی رکھی گئی ہے۔اور اسے اعمال میں مختار کیا گیا ہے چاہے اسے اختیار کرے اور چاہے اسے رد کرے اور اسی قدرت کا نام جنت کا گھر اور دوزخ کا گھر ہے۔پس تم جنت کے گھر کو قبول کرو تا دوزخ کا گھر تمہارے لئے مٹادیا جائے۔پھر دوسروں کو جنت کے گھر میں داخل کرنے کی کوشش کرد - بخل مت کرو کیونکہ جنت بہت وسیع ہے۔یہ خیال مت کرو کہ اگر دو سرے کو جنت میں سے حصہ دیا گیا تو تمہارے حصہ میں کمی آجائے گی۔کیونکہ جنت ایسی ہے کہ اسے جتنا استعمال کیا جائے وہ پھیلتی ہے۔جس طرح تم نے ربڑ کے متعلق دیکھا ہو گا کہ اسے جتنا کھینچا جائے اتنا ہی پھیلتا ہے یہی حال جنت کا ہے۔تم جتنوں کو اس میں داخل کرو گے اتنا ہی وہ تمہارے لئے وسیع ہوگی۔پس تم اخلاص اور سوز کے ساتھ جاؤ اور تبلیغ کرد خدا اور اس کے رسول کی منادی کرو سوتوں کو جگاؤ اور غافلوں کو ہشیار کرو۔اور انہیں بتا دو کہ خدا تعالیٰ کا نور ظاہر ہو چکا ہے جس کا دل چاہے وہ اسے سمجھ لے ، دیکھ لے اور سن لے۔ورنہ ممکن ہے وہ دن آتا ہو جب دل ، آنکھ کان سب پر مہر لگ ، جائے۔کیونکہ ایک جو حق کو قبول نہیں کرتا وہ اس سے محروم کر دیا جاتا ہے۔جو خدا کے نور کو نہیں دیکھتا وہ اندھا کر دیا جاتا ہے۔پس پیشتر اس کے کہ تمہارے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہم قوم اور ہم وطن گونگے بہرے اور اندھے بنا دیے جائیں جاؤ اور ان کو ہدایت دو۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین۔ا بخارى كتاب الادب باب الرجل ينكث الشئ بيده في الارص (الفضل ۵- جنوری ۱۹۳۳ء)