خطبات محمود (جلد 13) — Page 661
خطبات محمود 441 سال ۱۹۳۲ء جنگ میں اس نے سب عورتوں کو سکھا دیا کہ کہہ دو آج مردوں میں سے جو شکست کھا کر واپس آئے گا عورتیں اسے طلاق دے دیں گی۔وہ ہندہ بھی سمجھ گئی کہ زندہ خدا کس مذہب کے ساتھ ہے۔پس کچی عبادت اور کچی استعانت محض بچے مذہب سے حاصل ہو سکتی ہے۔بچے مذہب کے بغیر انسان کبھی اللہ تعالیٰ پر وہ یقین اور وثوق پیدا ہی نہیں کر سکتا جو پیدا ہونا چاہئے۔ہمیشہ مصائب انسان کے دل میں مایوسی پیدا کر دیا کرتے ہیں مگر جس کے دل میں سچا ایمان داخل ہو اس کی مثال وہی ہوتی ہے جو احزاب کے موقع پر مسلمانوں کی ہوئی کہ چاروں طرف سے دشمنوں نے آگھیرا۔زمین و آسمان مسلمانوں کے واسطے تنگ ہو گئے۔منافقوں جیسے بزدل بھی کہنے لگ گئے کہ مسلمانوں کو باہر پاخانہ پھرنے تک کی تو اجازت نہیں مگر دنیا فتح کرنے کے ارادے ہیں۔سات سات وقت کا فاقہ تھا اور اکثروں نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔اس وقت جب زمین ان پر باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہو رہی تھی۔جب اپنے اور پرائے سب ڈرا رہے تھے اور دشمن چاروں طرف سے حملہ آور تھا۔ان کی ایمانی حالت کے متعلق خود خد اتعالیٰ گواہی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جب لوگوں نے انہیں کہا کہ اے مسلمانو! اب تمہارا کہیں ٹھکانہ نہیں یا هُلَ يَثْرِبُ لَا مُقَامَ لحم کہ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو اللہ تعالٰی میں پہلے بتا چکا ہے۔اور یہی مصیبتیں ہیں جن کے بعد ہمارے لئے فتح اور خوشی مقدر ہے۔پس وہ اپنے ایمان میں اور زیادہ بڑھ گئے۔غرض خدا تعالیٰ کی عبادت اور استعانت بچے دین سے ہی حاصل ہوتی ہے۔اور ایسا انسان مصائب اور مشکلات کے اوقات میں اپنے رب کو پہچان لیتا ہے اور اس پر اس کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔قرآن مجید میں استعارہ کے رنگ میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ارواح کو پیدا کیا تو ان سے پوچھا اگشت بر تكُم کیا میں تمہارا رب نہیں انہوں نے کہا۔بللی معموں نہیں۔اس کے معنے ہی ہیں کہ ہر انسان کی فطرت میں ایک نقشہ موجود ہے۔جس کی وجہ سے وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے۔غرض کچی عبادت اور کچی استعانت محض اسلام میں ہی نصیب ہو سکتی ہے۔مگر کیا ہی بد بخت ہے وہ انسان جس کو کچی عبادت اور کچی استعانت حاصل کرنے کا موقع ملا مگر پھر بھی وہ اس کے حاصل کرنے سے محروم رہا۔اور پھر بھی اس کی عبادتیں اسی رنگ کی رہیں جس طرح کوئی مندروں یا گر جاؤں میں جاکر عبادت کرتا ہے۔واقعہ میں ایسا انسان اگر پیدا نہ ہو تا تو اس کے لئے اچھا تھا اور واقعہ میں یہ اپنی قوم کے لئے تنگ و عار ہے۔رَبُّ KNOUANTUNG خدا ہی ہے جو اسے ان بندھنوں اور شیطانی قوتوں سے نجات دے جن میں وہ پھنسا ہوا ہے کیونکہ وہ رَبُّ الْعَلَمِيْنَ ہے تو مُلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ