خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 651

4: خطبات محمود ۶۵۱ سال ۱۹۳۲ء ہو ۔ اگر ایک سلام محبت سے کر دو تو وہ سب زائل ہو جائینگے بشرطیکہ گناہ بھی ایسا ہو جیسا سلام کرنے کی نیکی ہے رسول کریم کی مجلس میں ایک شخص آیا اس نے کہا السّلامُ عَلَيْكُمْ آپ نے فرمایا عشر دو سرا آیا اور کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ آپ نے فرمایا عشوون تیسرا آیا اور کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ نے فرمایا اکنون صحا ن صحابہ نے عرض کیا یا رسول الله ! اسکا کیا مطلب ہے ۔ آپ نے فرمایا جس نے السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا اس کے نام دس نیکیاں جس نے م عليكم ورحمه السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ کہا اس کے میں نیکیاں اور ؟ اور جس نے السّلامُ عَلَيْكُمْ وَ الله وبركاته کہا اس کے نام میں نیکیاں لکھی گئیں ۔ اور جب ایک لفظ سے دس نیکیاں ملتی ہوں تو وہ کون بے وقوف ہے جو نہ لے سلام کا جواب بھی اونچی آواز سے دینا چاہئے۔ ہاں ایک اور صورت ہے مثلاً میں اب پانچ منٹ میں یہاں تک پہنچ سکا ہوں اس اثناء میں قریباً اڑھائی سو لوگوں نے مصافحے کئے ہوں گے اور پھر کئی ایسے ہاتھ تھے جن کے ہاتھ دوسروں سے ملے ہوئے تھے۔ رسول کریم میں اللہ کا طریق تھا کہ ایسے موقع پر آپ تین دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کر دیتے۔ کیونکہ سب کو علیحدہ علیحدہ جواب دینا ایسے موقع پر مشکل ہوتا ہے اس لئے اکٹھا ہی جواب دیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو کھڑے ہو کر ہر ایک جواب دینا تکلیف مالا يطاق بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے ۔ مگر یہ موقع ہر بار مجھے بھی پیش نہیں آتا اور دوسروں کو تو بالکل ہی نہیں آتا ہو گا اور ایسی صورت کے سوا اسلام کا جواب ضرور دینا چاہئے ۔ بلکہ رسول کریم تو اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ اکثر آپ خود ابتداء کرتے تھے۔ چونکہ آپ معلم تھے اس انہیں سلام لئے اگر بچوں کے پاس ۔ وں کے پاس سے گزرتے تو ان کو بھی اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ کہتے اور اس طرح انہیں ۔ کہنا سکھاتے۔ لیکن اگر ایک ہیڈ ماسٹر گزرتا ہے بچے اسے سلام کہتے ہیں اور وہ جواب نہیں دیتا تو وہ یہی سمجھیں گے کہ جواب نہیں دینا چاہئے ۔ کیونکہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتا دیکھیں۔ ہمارے گھر میں چونکہ عام طور وہ دیکھتے ہیں اس لئے ایسی عادت ہو گئی ہے کہ جب میں جاتا ہوں اس کثرت کے ساتھ السّلامُ عَلَيْكُمْ کہنے لگ جاتے ہیں کہ مجھے بعض اوقات انہیں ڈانٹنا پڑتا ہے۔ باری باری بچے ابا جان السّلامُ عَلَيْكُمْ ابا جان السَّلامُ عَلَيْكُمْ کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور جب ایک دور ختم ہو جائے تو دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر ماں باپ یا ہیڈ ماسٹر کو وہ دیکھیں دیا کہ سلام نہیں کرتے تو وہ بھی اس کے عادی نہیں ہو سکتے۔