خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 649 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 649

خطبات محمود ۶۳۹ سال ۱۹۳۲ء بشیر احمد صاحب کو سلام کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب چودہری فتح محمد صاحب یا شیخ عبدالرحمن صاحب مصری نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ اس طرح کی اگر وہ پانصد یا ہزار آدمیوں کی فہرست بھی دے دے تو یہ جائز ہے۔ لیکن اگر اس نے پانصد کو سلام کیا اور انہوں نے جواب نہیں دیا اور وہ کہہ دیتا ہے کہ سارے ہی سلام کا جواب نہیں دیتے تو یہ نا جائز ہے۔ اس کا کیا حق ہے کہ جن لوگوں سے وہ واقف بھی نہیں اور جنہوں نے اس کی شکل بھی نہیں دیکھی وہ ان پر الزام لگائے ۔ حتی کہ اگر واقعہ میں بھی پچاس فیصدی ایسے ہیں جو جواب نہیں دیتے تو بھی اس کا تمام کے متعلق ایسا کہنا نا جائز ہے۔ اور اس پر اس سے خدا تعالیٰ ضرور باز پرس کرے گا۔ کیونکہ وہ ناکردہ گناہوں پر یا ایسے لوگوں پر جن پر جرم ثابت نہیں بلاوجہ الزام لگا سکتا ہے۔ یہ طریق سخت نا جائز ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں ایسی شکایات کا جواب نہیں دیتا۔ اور پھر ایسے لوگ اپنے واقفوں بلکہ نو واردوں کے سامنے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے شکایت کی تھی مگر اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا گیا۔ حالانکہ اگر میں اس شکایت پر نوٹس لوں تو وہ سزا کے مستوجب ٹھریں کیونکہ تحقیق کا تو یہی طریق ہو سکتا ہے کہ میں انہیں کہوں لاؤ ثابت کرو کہ اتنے فیصدی لوگ سلام کا جواب نہیں دیتے۔ اور جب وہ ثابت نہ کر سکیں تو انہیں سزا دوں۔ پس شریعت کے رو سے یہ میری بے توجہی نہیں بلکہ رحم ہوتا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں انہوں نے جہالت سے ایسا کیا ہے۔ مجھے درگزر سے کام لینا چاہئے۔ پس بجائے اس کے کہ وہ میرے ممنون ہوں وہ الٹا واویلا کرتے ہیں۔ ہیں۔ ایسے شخص کی شکایت اگر صحیح ہے اور اس کے علم میں بہت سے ایسے آدمی ہیں تو وہ کیوں ان میں سے چار پانچ یا ایک دو کے ہی نام نہیں لے دیتا۔ اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ بے گناہوں کو بھی ساتھ شامل کر لینے سے شکایت کی عظمت بڑھ جائے گی تو یہ غلط خیال ہے۔ اس طرح سے عظمت بڑھے گی نہیں بلکہ کم ہو جائے گی۔ غرض اس طریق شکایت کو میں سخت ناپسند کرتا ہوں اور ایسا کرنے والا میرے خیال میں اپنی روحانیت پر تبر رکھتا ہے۔ میں تو اس سے درگزر کر دیتا ہوں۔ مگر ممکن ہے میرا معاف کرنا غلط ہو اور وہ شخص رحم کافی الواقع مستحق نہ ہو۔ اور یہ ضروری نہیں کہ جسے میں معاف کردوں اسے اللہ تعالٰی بھی معاف کر دے ۔ ایسی صورت میں وہ ایسے لوگوں کو کہے گا کہ ثبوت لاؤ وگر نہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔ سو یہ طریق غلط ہے۔ میں نے تو اکثر بتایا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ یہ کیوں کہتے ہو کہ لوگ ایسا نہیں کرتے جو نہیں کرتے ان کا نام کیوں نہیں لیتے۔ اگر ایسا کرنے سے ڈرتے ہو تو ان پر