خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 647

خطبات محمود ۶۴۷ 76 السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنے کی تاکید (فرموده ۱۶- دسمبر ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- بعض لوگوں نے میرے پاس شکایت کی ہے کہ قادیان کے لوگوں میں السّلامُ عَلَيْكُمْ کہنے کا رواج کم ہے۔اور یہ کہ بہت سا حصہ ایسے لوگوں کا ہے جو سلام کا جواب نہیں دیتے۔بالخصوص جو لوگ بڑے سمجھے جاتے ہیں وہ خصوصیت کے ساتھ سلام کا جواب دینے میں سستی کرتے ہیں۔یہ الزام ایساد سیع ہے اور ایسا غیر معین اور مہم ہے کہ اس قسم کی باتوں یا ایسی شکایتوں کی طرف توجہ کرنا بالکل بے معنی ہے۔ایسی ملاقاتوں کو چھوڑ کر جو عیدین اور جمعہ کے روز ہوتی ہیں اور جو ایسی نہیں ہوتیں کہ ان میں شناخت یا گفتگو ہو سکے ، وہ اختصار کے ساتھ اظہار محبت ہوتا ہے اور ایسا موقع صرف مجھے ہی ملتا ہے باقی لوگوں کو شاید ہی اس رنگ میں قادیان کے دس فیصدی لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہو۔ہر شخص کو سلام کا جواب ضرور دینا چاہئے۔لیکن اس طرز میں شکایت کرنا کہ سارے ہی یا پچاس فیصدی یا پچیس فیصدی ایسے ہیں جو سلام کا جواب نہیں دیتے ، علامت ہے اس بات کی کہ ایسا شخص بہت جلدی غصے میں آجاتا ہے۔اگر قادیان کے تمام لوگوں کی ایک پریڈ کرائی جائے اور اس سے دریافت کیا جائے کہ اس سال ان میں سے کتنے لوگوں کے ساتھ تمہاری ملاقات ہوئی ہے تو معلوم ہو گا کہ دس فیصدی سے بھی کم سے ملنے کا اسے موقع ملا ہے۔ایسی حالت میں اس کا سب پر یا پچاس ساٹھ فیصدی پر فتویٰ لگا دینا سخت مضحکہ خیز ہے۔جس صورت میں کہ وہ ملا دس سے بھی نہیں تو اس کی شکایت کس طرح صحیح ہو سکتی ہے۔ایسا شخص منطق کے صحیح اصول سے ناواقف ہے۔دس میں سے اسے جو واقعہ