خطبات محمود (جلد 13) — Page 638
خطبات محمود ۶۳۸ سال ۶۱۹۳۲ بزدل ہے۔ کیونکہ اس کا ہر کام بزدلی اور لوگوں کے خوف کی وجہ سے ہے۔ وہ کی محبت کی وجہ سے نہیں۔ غرض جو شخص نیکی کو نیکی کے لئے اختیار نہیں کرتا بلکہ لوگوں کے لئے اختیار کرتا ہے وہ بزدلی کا ارتکاب کرتا ہے اور ظاہری کام کے لحاظ سے خواہ وہ بہادروں میں ہی شمار ہو اللہ تعالیٰ کے حضور جری نہیں کہلا سکتا۔ جیسے دنیا میں ہزاروں انسان ایسے ہیں کہ وہ نیکی کے کام تو کرتے ہیں مگر نیک نہیں ہوتے۔ حدیثوں میں آتا ہے ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ بہت بڑھ چڑھ کر جنگ میں حصہ لے رہا ہے اور مسلمانوں کی طرف سے اتنے جوش سے لڑ رہا ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی اس وقت ایسا نہیں لڑ رہا تھا رسول کریم میں ہم نے اسے دیکھا اور فرمایا اگر کسی نے دنیا میں روزخی دیکھنا ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ اس پر سب لوگ حیران ہو گئے اور صحابہ نے دل میں کہا کہ یہ شخص دوزخی کس طرح ہو سکتا ہے جبکہ ہم سب سے زیادہ جوش سے یہی لڑ رہا ہے۔ ایک صحابی کا بیان ہے کہ مجھے شبہ ہوا شاید بعضوں کے ایمان میں اس وجہ سے کمزوری پیدا نہ ہو جائے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے قسم کھائی کہ اس شخص کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ رسول کریم مسلم کے قول کی سچائی مشاہدہ کرلوں وہ کہتے ہیں کہ لڑتے لڑتے وہ شخص زخمی ہوا اور کرب اور درد کی وجہ سے کراہ رہا تھا تو میں دیکھتا تھا کہ لوگ آ آکر اسے کہتے ابْشِرْ بِالْجَنَّةِ تجھے جنت کی خوشخبری ہو مگر وہ جواب دیتا کہ مجھے جنت کی نہیں دوزخ کی خبر سناؤ کیونکہ میں خدا کے لئے ان کافروں سے نہیں لڑا بلکہ ان سے مجھے کوئی ذاتی بغض تھا جس کا آج میں نے بدلہ لیا۔ آخر اسی کرب کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد اس نے خود کشی کرلی۔ وہ صحابی کہتے ہیں میں یہ دیکھ کر رسول کریم مسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔ جب میں پہنچا تو میں نے زور سے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے خدا کے اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ رسول کریم میں ہم نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟ اس صحابی نے تب بتلایا کہ آپ نے اس طرح کہا تھا۔ میں نے بھی عزم کر لیا کہ اسے نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھا نہ دیکھ لوں۔ اب میں یہ انجام دیکھ کر آ دیکھ کر آیا ہوں۔ تب آپ نے ؟ آپ نے بھی بلند آواز سے کہا اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ انِي رَسُولُ اللهِ میں گواہی دیتا ہوں کہ اہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب دیکھو ! بظاہر وہ نیک کام تھا لیکن چونکہ وہ اللہ تعالی کے لئے نہیں لڑ رہا تھا اس لئے وہ بزدل تھا۔ کیونکہ وہ نہ صرف جذبات بلکہ کمینہ جذبات سے دبا ہوا تھا۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ جری بنیں اور اپنے تمام افعال