خطبات محمود (جلد 13) — Page 637
خطبات محمود ۶۳۷ سال ۱۹۳۲ء تو وہ جری کہلائے گا۔ جرات یہ نہیں کہ لٹھ لے کر دشمن کو مارنے کے لئے چل پڑیں۔ کیونکہ اگر ہم تو کو یہ یہ معنی کریں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ لاکھوں کو یہ نیک صفت دکھانے کا موقع نہیں ملا۔ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام ہمیشہ عفو کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور آ۔ دیتے تھے ۔ اور آپ نے کبھی لڑائی نہیں کی بلکہ بسا اوقات آپ پر دشمنوں کی طرف سے حملے ہوئے۔ لاہور میں سے ہی سے ہی ایک دفعہ آپ گزر رہے تھے کہ ایک اور مدعی مهدویت بھی آنکلا اور اس نے اس زور سے آپ کو ممکا مارا کہ آپ رگئے۔ باقی دوستوں نے چاہا کہ اسے ماریں مگر آپ نے فرمایا چھوٹ آپ نے فرمایا چھوڑ دو اس نے تو نیک نیتی سے ہی کیا ہے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف لڑائی میں ابتداء نہیں کی بلکہ دشمن گر کے مقابلہ میں بھی عفو سے کام لیا۔ مگر خدا کیا نام رکھتا ہے اللہ جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ گا جری جو سارے نبیوں کے حلوں میں آیا ہے حالانکہ آپ نے کبھی لڑائی نہیں کی بلکہ لڑائی تو دور کی بات ہے ایسی نیت بھی آپ نے کبھی نہیں کی۔ مگر باوجود اس کے کہ ساری عمر لڑے نہیں بلکہ لڑائی کی نیت بھی نہیں کی خدا کہتا ہے کہ آپ جری ہیں اور ایسا جری جو ہمار ا سپہ سالار ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جرات صرف لڑائی کا نام نہیں بلکہ موقع پر عفو کرنا اور درگزر سے کام موعود علیہ لینا اور اپنے جذبات کی قربانی کرنا بھی جرأت اور دلیری ہے۔ ہے۔ یہ جرات حضرت مسیح موع الصلوة والسلام میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی اور ہمیشہ آپ نے سچائی اور راستی کی تائید کی اور کبھی اس راہ میں جانی یا مالی نقصان سے خوف خوف نہیں کھایا ۔ پس خدا کے حضور آپ جو اللہ کہلائے۔ اسی طرح اگر کوئی بھی بجائے دشمن کے مقابلہ میں لٹھ اٹھا لینے کے اپنی عزت مال جان اور آبرو کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور نیکی کے مواقع پر خطرات کو قبول کرتے ہوئے راستی کو ترک کرنا گوارا نہیں کرتا تو وہ جری کہلائے گا۔ اور اگر وہ اور زیادہ ترقی کرے گا تو جری اللہ بن جائے گا۔ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ جری کے معنی صرف لٹھ باز کے ہی نہیں بلکہ موقع پر عفو اور درگزر سے کام لینے والا تکلیفوں کو برداشت کرنے والا اور ظاہری نقصانات کو قبول کرنے والا بھی جری ہے ۔ ہاں اگر کوئی ڈر کے مارے ایسا کرتا ہے تو وہ بزدل ہے جیسے اگر کوئی شخص نماز تو پڑھتا ہے لیکن اس لئے نہیں کہ خدا کا یہ حکم ہے بلکہ اس لئے کہ محلہ کے لوگ کیا کہیں گے ۔ یا اس لئے چندہ نہیں دیتا کہ یہ قربانی ہے بلکہ اس لئے دیتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے مطعون نہ کریں تو ایسا شخص جری نہیں خواہ وہ ساری عمر ایسے کاموں میں گزار ردے بلکہ وہ