خطبات محمود (جلد 13) — Page 636
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء حملہ کریں کیونکہ یہ اسلام میں جائز نہیں۔جرات کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر ایسی جگہ جہاں اسے یقینی نفع نظر نہیں آتا لیکن کام نیک معلوم ہوتا ہے جائے اور اس کام کو اختیار کرلے۔جیسے انسان ایک دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا ہے باوجود یہ جاننے کے کہ ہتھیار اس کے پاس ہے اور وہ مجھے ہلاک کرنا چاہتا ہے اور باوجود یہ جاننے کے کہ میری کامیابی یقینی نہیں وہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر جب کھڑا ہو جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں یہ بڑا جری اور بہادر ہے۔یہی چیز جب دوسرے مواقع پر پیش آتی ہے تو اس وقت بھی جرات ہی کہلاتی ہے۔مثلاً ایک ایسا موقع آتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ میری اپنی ضروریات اتنی ہیں کہ اگر میں انہیں پورا کروں تو دین کی خدمت کا موقع نہیں مل سکتا اور اگر دین کی خدمت کروں تو اپنی ضروریات پوری نہیں ہو تیں۔اب اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں جری ہے تو وہ یہی کہے گا کہ ہرچہ بادا باد میں پہلے دین کی خدمت کروں گا اپنی ضروریات بعد میں دیکھ لوں گا۔ایسا شخص جری کہلائے گا کیونکہ اسے ایک خطرہ تھا مگر اس نے اس خطرہ کی پرواہ نہیں کی۔یا ایک ایسا شخص ہے کہ اس پر کوئی دشمن حملہ کرتا اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔پھر وہ دشمن اس کے قابو میں آجاتا ہے۔اب اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ چاہے تو معاف کرے اور چاہے تو سزا دے لیکن اسے معاف کرتے وقت ایک خیال آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر آج میں نے اسے چھوڑ دیا تو ممکن ہے کل یہ مجھے پھر نقصان پہنچائے۔اس لئے ایک خیال اسے یہ بھی آتا ہے کہ چلو اسے سزا دے لیں لیکن اگر وہ ایسی حالت میں کہ اس کی طرف سے اسے نقصان پہنچانے کا خطرہ ہے دشمن کو معاف کر دیتا ہے تو وہ جری کہلائے گا حالانکہ وہ لڑتا نہیں، دشمن پر حملہ نہیں کرتا لیکن کہلائے گادلیر- کیونکہ دشمن اس کے قابو میں تھا اور اسے اختیار حاصل تھا کہ اسے سزا دے۔پس سزا دینے میں تو کوئی خطرہ نہ تھا لیکن عفو میں خطرہ تھا۔اور خیال ہو سکتا تھا کہ اگر آج اسے چھوڑ دیا گیا تو ممکن ہے اسے کل کوئی اور موقع مل جائے اور نقصان پہنچا دے۔پس ایسے موقع پر معاف کرنے والا بھی جری کہلائے گا حالانکہ وہ لڑنے والا نہیں ہو گا یا اسی طرح اگر کوئی شخص سرکاری ملازم ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ظلم ہو رہا ہے لیکن افسر اس ظلم کی تائید میں ہے تو اگر وہ شخص ان لوگوں کے پاس جن سے ان کا واسطہ ہے صحیح طور پر حالات بیان کر دیتا اور اپنی بات پر قائم رہتا ہے تو ہم کہیں گے یہ جری ہے حالانکہ اس نے لڑائی نہیں کی اور نہ کسی سے مقابلہ کیا۔غرض ہر وہ موقع جس میں نیکی اختیار کرنے میں خطرات ہوں اگر انسان اس حالت میں نیکی کو اختیار کرتا اور خطرے کی پرواہ نہیں کرتا