خطبات محمود (جلد 13) — Page 627
خطبات محمود ۶۲۷ سال ۱۹۳۲ء میں تاریخ میں جماعت کے ایک نیک اور اچھے شخص کے نمونہ کو قائم کرنے کے لئے یہ خطبہ کہہ رہا ہوں۔ حضرت خلیفہ اول او کو بھی آپ کا اتنا خیال تھا کہ جن چند لوگوں کو آپ نے نے امام امام الصلوٰة ا کے طور پر مقرر کیا ہوا تھا ان میں سے ایک آپ بھی تھے ۔ غرض جہاں میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں ان مخلص اور خدا رسیدہ لوگوں کے نام رہ جائیں وہاں میں نوجوان احمدیوں اور نئے احمدی بننے والوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اسی قسم کا اخلاص اور ایمان پیدا کریں اور انہیں اللہ تعالی پر ایسا یقین معرفت اور توکل حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ ان سے براہ راست ہم کلام ہو ۔ اور وہ اس مقام پر کھڑے ہوں کہ ان کی وفات آسمان اور زمین کو ہلا دینے کو موجب ہو جا۔ ہے۔ وہ بھی کیا انسان ہے جو دنیا میں آیا اور چند سال رہ کر یوں مر گیا جیسے لکھی مر جاتی ہے ۔ ہمارے سائے یہ مقصد ہونا چاہئے کہ جب ہماری موت کا وقت آئے تو اس وقت ہماری وفات پر خدا کو تر رو ہو اور سکرات موت میں خدا کے کہ اگر چہ یہ میرا فعل سنت اور حکمت کے ماتحت ہے لیکن میرے بندے کی یہ وقتی تکلیف میری تکلیف اور گھبراہٹ کا موجب ہے یہ مقام جو شخص حاصل کر لیتا ہے وہ اپنی زندگی کے مقصد کو کو پالیتا ہے اور یاد رکھو کہ یقین کے مقام پر وہی شخص ہوتا ہے جو کامل تعشق کامل عبودیت اور کامل تو کل پیدا کرتا اور یہاں تک اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں گداز ہو جاتا ہے کہ خدا کہتا ہے اگر میں نے اپنے اس بندے سے کلام نہ کیا تو یہ اسی غم اور رنج و فکر میں ہلاک ہو جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے یہ بھی لکھا ہے کہ الہام کو انسان الہام کی خواہش کے ماتحت طلب نہ کرے مگر چونکہ اب وقت نہیں اس لئے میں اس کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا۔ (الفضل ۳- نومبر ۱۹۳۲ء) الفاتحة : ٥ الفاتحة : 2 البقرة : ٢٧ بخاری کتاب الايمان باب من كره ان يعود في الكفر كما يكره أن يلقى في النار من الايمان