خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 612

خطبات محمود ۶۱۲ سال ۱۹۳۲ء بھی مدد دے سکتی ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو سلسلہ کی تعلیم کے مطابق کہاں تک اپنے قبضہ تصرف میں لے آئے ہیں کیونکہ تبلیغ کی سعی کے وقت بہت سی گالیاں بھی سننا پڑتی ہیں اور بہت دفعہ حقارت کا سلوک بھی دیکھنا پڑتا ہے۔پس یہ تبلیغ کادن در حقیقت اس قدر مادی اور ظاہری نتائج کو مد نظر رکھ کر مقرر نہیں کیا گیا تھا جسقدر کہ علمی اور اخلاقی نتائج کی اس سے امید کی جاسکتی ہے۔اب مخالفوں کے دل یہ بات جان چکے ہیں کہ احمدیت ایک تناور درخت ہے جسکی شاخیں اگر ایک طرف آسمان تک پہنچ چکی ہیں تو دو سری طرف زمین کے دور دراز خطوں کو اپنے سایہ میں لینے کے لئے دائیں بائیں اور آگے پیچھے بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔مخالفوں کے دل سمجھ چکے ہیں کہ احمدیت ایک ایسا درخت ہے جسے انسانی ہاتھوں نے نہیں بویا بلکہ خود اللہ تعالی کا ہاتھ اس کا بونے والا ہے۔تا اس کے بندے جو شدید دھوپ سے تکلیف اٹھا رہے تھے اس کے فضل کے سایہ سے محروم نہ رہیں۔اور اس سایہ میں آکر اپنے رب کی نعمتوں سے لذت حاصل کر سکیں۔لیکن جس طرح پہلے آدم کے زمانہ میں باوجود یہ جاننے کے کہ خدا تعالٰی نے اسے ایک بڑے مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے اسے بہت سے علوم بخشے ہیں اور اللہ تعالٰی کا منشاء ہے کہ اس عالم با عمل کی اطاعت کی جائے ابلیس نے اسکی فرمانبرداری اور اس کے ساتھ تعاون سے انکار کیا اسی طرح ہمارے مخالفوں نے بھی باوجود یہ جاننے کہ وہ خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ اسلام کی ترقی اسی سلسلہ کی ترقی سے وابستہ ہے فیصلہ کیا کہ اس مبارک سعی کے رستہ میں روکیں ڈالیں اور جہاں تک ان کا بس چلا انہوں نے ہمارے رستے میں مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن جس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ دن مقرر کیا گیا تھا اس وقت تک جس حد تک نتائج میرے سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت حد تک پوری ہو چکی ہیں اور مخالفوں کی مخالفت ہمارے رستہ میں روک بننے کی بجائے کھاد کا موجب ہوئی ہے۔بعض دوستوں نے لکھا اور بعض نے بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس جا کر ہم نے دس پندرہ منٹ صرف اپنی آمد کی غرض بتانے میں صرف کرنے تھے انہوں نے دیکھتے ہی کہہ دیا اچھا آپ آج ہمیں تبلیغ کرنے کے لئے آئے ہیں ہم تو پہلے ہی سمجھتے تھے کہ آپ نے ہمیں چھوڑنا نہیں اچھا آئیے سنائیے۔گویا اس مخالفت سے وہ ہزاروں لاکھوں آدمی جن تک ہماری آواز پہنچنا مشکل تھی یا جن کے گھروں پر جا کر دس پندرہ منٹ اپنی آمد کی غرض سمجھانے میں ہمیں صرف کرنے پڑتے انہیں مخالفوں کی آواز نے پہلے ہی