خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 595

خطبات محمود ۵۹۵ سال ۱۹۳۲ء صلی سے گزرے جو اس وقت اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں لئے بیٹھے تھے۔ انہوں نے پوچھا عمر کیا ہوا حضرت عمرؓ نے کہا اور کیا ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ شہید ہو گئے۔ یہ سن کر ان صحابی نے جو اس وقت ہاتھ میں لئے کھجوریں کھا رہے تھے کہا پھر یہ رونے کا کون سا موقع ہے جہاں رسول اللہ مر گئے ہیں وہیں ہمیں بھی جانا چاہئے اور کہا میرے اور رسول اللہ مسلم کے درمیان میں کھجوریں حائل ہیں نا۔ اسی وقت باقی کھجوریں پھینک دیں اور تلوار لے کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔ اور نہایت شجاعت و مردانگی سے تلوار چلاتے رہے حتی کہ ان کا ایک ہاتھ بے کار ہو گیا تو دو دوسرے میں تلوار پکڑلی۔ اور برابر دشمن پر وار کرتے رہے آخر وہ شہید ہو گئے۔ جنگ کے بعد جب ان کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پر ستر زخم پائے گئے ۔ یہ قربانی ایسی ہے کہ جس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کے کرنے والے کو یہ احساس ہی نہیں تھا کہ میں کوئی قربانی کر رہا ہوں۔ اس وقت اس صحابی کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ قربانی کا موقع ہے۔ ہے۔ اپنی جان کی قربانی دے دوں بلکہ یہ خیال پیدا ہوا کہ آنحضرت مسیلمہ ہم میں نہیں ہیں اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔ ہیں۔ ہمیں بھی آپ کے پاس پہنچ جانا چاہئے۔ اسی طرح ایک دوسرے صحابی کے متعلق آتا ہے وہ مدینہ کے رئیس تھے وہ ایک جنگ میں شریک ہوئے۔ ایک دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ اثنائے جنگ میں میں ان کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی تھیں۔ زخموں سے نڈھال ہو رہے تھے اور یہی معلوم ہوتا تھا کہ چند منٹ کے مہمان ہیں۔ وہ صحابی بیان کرتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا آپ کا کیا حال ہے وہ کہنے لگے مجھے یہ بتاؤ رسول اللہ صلی اللہ کا کیا حال با حال ہے۔ میں نے کہا بخیریت ہیں۔ وہ صحابی کہتے ہیں پھر میں نے ان سے کہا اس وقت میں آپ کی اور تو کوئی خدم خدمت نہیں کر سکتا ہاں اگر بیوی بچوں یا دوسرے رشتہ داروں کو کوئی پیغام دینا ہو تو بتادیں میں پہنچادوں گا۔ وہ کہنے لگے کہ میرے رشتہ داروں کو میری طرف سے کہہ دینا کہ مجھے تو رسول کریم مسلم کی خدمت کا موقع نہیں ملا۔ لیکن یاد رکھو کہ رسول اللہ صلی علیم ایک امانت ہیں اور میں یہ امانت اب تمہارے سپرد کرتا ہوں اپنی جانوں سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرنا یہ کہہ کر انہوں نے جان دیدی۔ غرض یہ لوگ اس قسم کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گئے ہیں جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ انسان کس طرح اسی دنیا میں جنت حاصل کر سکتا ہے۔ ایسے آدمی بیمار بھی ہوتے ہیں ، انہیں دکھ درد بھی پہنچتا ہے، دنیاوی نقصان بھی ہوتے ہو۔ ہیں، لیکن ان بے حقیقت اور معمولی باتوں سے وہ اندوہ گیں نہیں ہوتے بلکہ وہی باتیں جو دو سروں کے لئے مصیبتیں ہوتی ہیں ان کے لئے سکھ کا باعث ہو جاتی ہیں۔ كو