خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 585

1 خطبات محمود ۵۸۵ سال ۱۹۳۲ء برباد ہو گئے۔ لیکن مسلمانوں کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اگر ان کی کوئی مجلس ریزولیوشن پاس بھی کرتی ہے اور اسے ہمارے پاس لایا بھی جاتا ہے تو جب ہم سے گفتگو ہوتی ہے اپنے ذاتی ۔ پنے ذاتی معاملات نے بیٹھتے ہیں۔ اور ذکر تک نہیں کرتے کہ ہمارے پاس آنے کی اصل غرض کیا ہے ۔ بسا اوقات ہم جانتے ہیں کہ یہ اس غرض کو لے کر آئے تھے لیکن ان کی گفتگو میں اس کا اشارہ تک نہیں ہوتا۔ جب ان کے دل میں اپنی قوم کا درد ہی نہیں تو ہمارے دل میں کیونکر ان کی حمایت کا جذبہ پیدا ہو دوسرے افراد سکتا ہے۔ غرض میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کے تمام لوگ کیا مبلغ کیا دو ملک کے اس اہم اور بڑے طبقہ میں تبلیغ شروع کر دیں تو ایک طرف تو ہم غافل مسلمانوں میں قومی در د اور قومی خدمت کا احساس پیدا کر اسکیں گے اور دوسری طرف ہماری کوششیں ملک میں امن و امان قائم کرنے کا بھی موجب ہوں گی اس کے لئے میں مرکز کو ہدایات بھی بیچ رہا ہوں انہیں میں یہاں نہیں بیان کرتا لیکن یاد رکھو مرکز کی کوشش تو ایک دھکا ہوتی ہے جیسے بچے اینٹوں کو ایک دوسری کے پیچھے کھڑا کر کے پہلی اینٹ کو دھکا دیتے ہیں تو تمام اینٹیں گرتی چلی جاتی ہیں لیکن اگر باقی اینٹیں دھکا قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پہلی اینٹ کو دھکا دینے کا کیا فائدہ۔ پیس جہاں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے تی ہے کہ کوئی نہ کوئی محرک طاقت ہو وہاں یہ بھی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اس محرک کو قبول کرنے کی بھی صلاحیت رکھے۔ پس اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرو اور ایک متحدہ قوت کے ساتھ میدان عمل میں نکل کھڑے ہو ۔ تب تمہاری کامیابی یقینی ہے۔ میں کہتا ہوں اگر تم سب کو پورا احمدی نہ بنا سکے تو بھی سلسلہ کے متعلق ان کے تعصب کو تو ضرور کم کر سکوگے اور ان کی دشمنی کو نرم کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔ لیکن ابھی تک جماعت میں سستی کا مرض ہے اور اس وجہ سے لوگ تبلیغ کے لئے نہیں نکلتے ۔ یاد رکھو سب طبقوں کے لوگوں کو تبلیغ کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہ غلط عذر ہے کہ وہ ہماری باتیں نہیں سنتے۔ وہ تو شکار ہیں اور تم شکاری۔ ان کی کوشش ہے کہ تم سے بھاگیں لیکن تمہارا فرض ہے کہ ان کو تلاش کر کے حقانیت سے شکار کرو - شکار کب آسانی سے شکاری کے قبضہ میں آجاتا ہے۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ تمام جماعتیں اپنے حلقہ ہائے تبلیغ کو وسیع کریں۔ یہ مت خیال کرو کہ چھوٹے بڑے کو کیونکر تبلیغ کر سکتے ہیں۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ایک چپڑاسی بھی جا کر کسی بڑے آدمی کو تبلیغ کرے گا تو اس شخص پر بہت بڑا اثر ہو گا اور اسی شخص کے ہم پلہ شخص کی تبلیغ سے بھی بڑھ کر اس چپڑاسی کی تبلیغ موثر ثابت ہو گی۔ ایک چھوٹا آدمی اس شخص کو جے