خطبات محمود (جلد 13) — Page 573
خطبات محمود ۵۷۳ سال ۱۹۳۲ء کرے ۔ اب بظاہر اس شخص کا جس کا مال پہلے چرایا گیا، اس میں فائدہ ہے کہ دوسرے کا مال اٹھالے اور پولیس میں رپورٹ وغیرہ دینے کی زحمت میں نہ پڑے کیونکہ اگر رپورٹ کرے گا تو پھر اسے عدالت میں بھی جانا پڑے گا۔ وکیل کرنا ہو گا ۔ اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے۔ لیکن چوری کے طریق سے مال حاصل کر کے وہ زیادہ فائدہ میں رہ سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس طریق کو ہم بدی سکھتے ہیں اور جس میں صعوبت اور تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے وہ صحیح طریق عمل ہے۔ پھر کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ نیکی وہ ہے جس میں سب سے زیادہ فائدہ سب سے زیادہ لوگوں کو ہو ۔ لیکن یہ بھی غلط ہے مثلا دیکھو جب حضرت مسیح علیہ السلام مبعوث ہوئے تو وہ اکیلے تھے ، کثرت یہود کی تھی۔ اور اس کثرت ر اس کثرت کا فائدہ اس میں تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کر دے۔ بے شک کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ نسلوں کا فائدہ اسی میں تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ رکھا جاتا لیکن سوال یہ نہیں کہ آئندہ نسلوں کا فائدہ کس میں ہے بلکہ کوئی کام اس اصل کے ما تحت تو کسی شخص کے لئے نیکی تب بنے گا جب وہ خود اس کے لئے سود مند ہو۔ غرض دنیا خدا تعالیٰ سے علیحدہ ہو کر نیکی کی تعریف تک نہیں کر سکی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جس نے ایسے تمام جھگڑوں کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اور سچی اور اصل بات یہی ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی ذات سے علیحدہ ہو جاتا ہے تو نیکی و بدی کا کوئی معیار اس کے لئے رہتا ہی نہیں۔ اور یہ بھی ہستی باری تعالیٰ پر ایک بڑی اور زبردست دلیل ہے ۔ آج دنیا میں وہ لوگ بھی بستے ہیں جنہیں دنیا و ہم ہی و ہم نظر آتی ہے۔ سب سے یقینی چیز انسان کا اپنا وجو د ہے۔ لیکن سوفسطائیوں نے اسے بھی وہم ہی قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ سو فسطائیوں کے گروہ کا ایک شخص کسی بادشاہ کے دربار میں گیا اور وہاں جاکر کہنے لگا کہ اس دنیا کا کوئی حقیقی وجود سمجھنا محض ایک وہم ہے۔ در حقیقت جو کچھ نظر آتا ہے، ہمارے اپنے خیال کا نتیجہ ہے ورنہ ایسی حقیقت کچھ بھی نہیں ۔ بادشاہ کو جو سو بھی تو اس نے ایک مست ہاتھی کو ایک بڑے کمرہ میں بند کر دیا اور اس شخص سے کہا کہ اس کمرہ کے اندر جاؤ ۔ جب وہ شخص اندر گیا تو مست ہاتھی کو دیکھ کر بھاگا۔ بادشاہ نے کہا میاں بھاگتے کیوں ہو یہ ہاتھی تو محض وہم ہی وہم ہے ، حقیقت میں کچھ نہیں۔ اس وقت بادشاہ کو خیال تھا کہ میں نے اب اسے خوب قابو کیا ہے اور اس کا موقعہ دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ لیکن وہ بھی کچھ ایسا کچا نہیں تھا۔ اس نے جواب دیا مت بھاگتا کون ہے میرا بھاگنا جو آپ کے آپ کو نظر آرہا ہے یہ وہم ہی وہم ہے۔ اس طرح پھر بات وہیں کی وہیں آرہی۔ خیر سو فسطائیوں کا خیال تو بے وقوفی اور حماقت ہے لیکن اس میں بھی بادشاہ