خطبات محمود (جلد 13) — Page 565
خطبات محمود ۵۶۵ سال ۱۹۳۲ء حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک غریب بیوہ عورت سے میں نے پوچھا تمہیں کوئی ضرورت ہو تو بیان کرو۔اس کا ایک لڑکا بھی تھا اور بے حد غریب تھی۔میں نے پوچھا کہ کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتاؤ۔وہ کہنے لگی اللہ نے بہت کچھ دیا ہوا ہے اس کا بڑا فضل ہے۔آپ فرماتے میں نے اس کا گھر دیکھا تو اس میں صرف ایک چھوٹا سالحاف اور معمولی سی چار پائی تھی۔میں نے پوچھا مائی تمہیں لحاف چاہئے۔کہنے لگی مولوی صاحب میرا الخاف بڑا عمدہ ہے۔خوب گرم ہو جاتی ہوں۔آپ نے فرمایا سردی زیادہ ہے اور لحاف چھوٹا ہے گرم کس طرح ہوتی ہو۔کہنے لگی ہم ماں بیٹا ایک ہی جگہ سو جاتے ہیں جب سردی لگتی ہے تو پہلے ایک پہلو کو گرم کر لیتے ہیں ، پھر دو سرے کو۔آپ اصرار کرنے لگے کہ کوئی ضرورت بیان کرو۔مگر وہ یہی کہتی رہی کہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔آخر نے زیادہ زور دیا تو اس نے کہا کہ اگر کچھ دیتا ہی ہے تو موٹے حرفوں والا قرآن لے دیں۔میری نظر کمزور ہو گئی ہے اور بار یک حرفوں والے قرآن سے حروف نظر نہیں آتے۔اب دیکھو یہ جنت کہاں سے پیدا ہوئی۔اس کے دل میں جنت تھی، اس لئے باوجودیکہ حضرت خلیفہ اول نے اسکے دل میں کسی چیز کی خواہش پیدا کرنی چاہی پھر بھی پیدا نہ ہوئی۔پس خدا نے اسے دنیا میں ہی جنت دے رکھی تھی۔دراصل خواہشات کی زیادتی دوزخ ہے۔جنت یہی ہے کہ دل میں اطمینان ہو۔یہ جنت ہر شخص کے قبضہ میں ہے اور جو چاہے اسے لے سکتا ہے۔امیر بھی لے سکتا ہے اور غریب بھی۔رسول کریم میں تعلیم کے زمانہ میں بعض امیر صحابی تھے جو قربانیاں کیا کرتے تھے۔جس طرح آج کل بھی بہت سے امیر ہیں جو اخلاص سے قربانیوں میں حصہ لیتے ہیں اور ان کے دل غریبوں سے کم مطمئن نہیں۔اس وقت بھی ایسے لوگوں کو دیکھ کر غریبوں نے شکایت کی کہ یا رسول اللہ ظاہری تکلیفیں تو ہیں ہی لیکن ہم سمجھتے تھے کہ جو دل کا اطمینان ہمیں نصیب ہے وہ ان کو نہیں اس لئے ہم خوش ہیں لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا دل بھی اسی طرح مطمئن ہے جس طرح ہمارا۔اس طرح یہ دنیا میں بھی آرام میں رہے اور آخرت میں بھی۔رسول کریم م م ا ا ا ا م ا نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر فرمایا آؤ میں تمہیں چند کلمات سکھاؤں۔اگر ان کا ورد کرو گے تو پانچ سو سال پہلے جنت میں جاؤ گے۔اس پر وہ خوش خوش چلے گئے۔کچھ دنوں کے بعد انہوں نے پھر شکایت کی کہ یا رسول اللہ وہ کلمات تو امیر بھی کہنے لگ گئے ہیں۔دراصل ان امیر لوگوں کے دلوں میں بھی اخلاص تھا۔جب انہوں نے رسول کریم میں یہ اللہ کے یہ سکھائے ہوئے کلمات سنے تو وہ بھی پڑھنے لگ گئے۔جب آپ کے پاس شکایت کی گئی تو آپ نے فرمایا اگر کسی پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو رہا