خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 564

L : سال ۱۹۳۲ء ۵۶۴ خطبات محمود بڑے بڑے مخلص فوت ہو جاتے ہیں۔ رت ہو جاتے ہیں۔ ان کے آج کل کرتے کرتے موت آجاتی ہے پھر دل کڑھتا ہے اور حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ بھی مخلصین کے ساتھ دفن کئے جاتے مگر دفن نہیں کئے جاسکتے۔ سب کے دل ان کی موت پر محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ مخلص تھے اور اس قابل تھے کہ دوسرے مخلصین کے ساتھ دفن کئے جاتے مگر ان کی ذرا سی غفلت اور ذراسی ہستی اس امر میں حائل ہو جاتی ہے ۔ پھر بیسیوں ہماری جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دسویں حصہ سے زیادہ چندہ دیتے ہیں۔ مگروہ وصیت نہیں کرتے ۔ ایسے دوستوں کو بھی چا۔ چاہئے کہ وصیت کر دیں بلکہ ایسے دوستوں کے لئے تو کوئی مشکل ہے ہی نہیں۔ پھر کئی ایسے ہیں جو پانچ پیسے یا چھ پیسے فی روپیہ چندہ دے رہے ہوتے ہیں اور صرف دمڑی یا دھیلا انہیں وصیت سے محروم کر رہا ہوتا ہے۔ غرض تھوڑے تھوڑے پیسوں کے فرق کی وجہ سے ہماری جماعت کے ہزار ہا آدمی وصیت سے محروم ہیں اور جنت کے قریب ہوتے ہوئے اس میں داخل نہیں ہوتے۔ پھر بعض لوگ مرض الموت میں وصیت کر دیتے ہیں حالانکہ یہ وصیت منظور نہیں ہوتی۔ رسول کریم میں ہم نے اسے نا پسند فرمایا ہے ۔ وصیت وہی ہے جو حیات اور زندگی میں کی جائے اور غیر مشتبہ ہو ۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ جو وصیت کے برابر چندہ دیتے ہیں اور ایسے سینکڑوں آدمی ہیں وہ حساب لگا کر وصیت کر دیں۔ بعض اگر غور کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ صرف ایک پیسہ زیادہ چندہ دینے سے ان کے لئے جنت کا وعدہ ہو جاتا ہے۔ پس جس قدر ہو سکے دوستوں کو چاہئے کہ وہ وصیت کریں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وصیت کرنے سے ایمانی ترقی ضرور ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس زمین میں متقی کو دفن کرے گا تو جو شخص وصیت کرتا ہے اسے متقی بنا بھی دیتا ہے۔ پس یہ میری تین نصیحتیں ہیں۔ خصوصیت سے کمزوروں کو نصیحت ہے کہ وہ دوسروں ۔ کے لئے ٹھو کر کا موجب نہ بنیں۔ وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہو کر جنت سے محروم نہ ہوں اور ایسا نہ ہو کہ ان کے لئے وہی الفاظ کہنے پڑیں جو اللہ تعالی نے کیے ۔ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے حصہ میں جائے گا۔ پس منافقوں کو چاہئے کہ وہ اپنی منافقت کو چھوڑ کر اخلاص کے مقام پر آجائیں۔ عیش کے سامانوں سے کبھی جنت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ظاہری تکلیفوں کی وجہ سے جنت ضائع ہو سکتی ہے۔ جنت ہر انسان کا دل اپنے لئے بنا سکتا ہے۔ جس کا دل مطمئن ہے وہ جنت میں ہے اور جس کا دل مطمئن نہیں خواہ وہ روپوں کے ڈھیر رکھتا ہے تب بھی وہ دوزخ میں ہے۔