خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 558

خطبات محمود الله الله ۵۵۸ سال ۱۹۳۲ء تمام مومن مل کر دیتے تھے۔مگر آج کل کے مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ و نتیجہ پیدا نہیں کرتا جو رسول کریم کے زمانہ کے چند صحابہ تھوڑے سے روپے سے پیدا کرتے تھے۔آج کل بمبئی اور کلکتہ میں چلے جاؤ۔مسلمانوں کی بڑی بڑی عمارتیں نظر آئیں گی۔کالج ہوں گے ، سرا ئیں ہوں گی ، مسجد میں ہوں گی ، ہیں میں لاکھ روپیہ کی عمارتیں بنی ہوئی ہوں گی مگر آج مسلمانوں کی مجموعی قربانیاں وہ رنگ نہیں لاتیں جو مدینہ کے چند مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں۔وہ تھوڑے تھے اور تھوڑا سرمایہ رکھتے تھے مگر باو جود اس کے جب وہ قدم اٹھاتے تھے تو حکومتیں ان کے سامنے گر جاتی تھیں جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ اخلاص والا دل جس سے قربانی کی جائے ، ترقی دیتا ہے۔ورنہ اگر صرف مالی قربانی ہی ترقی دے سکتی تو آج مسلمان بہت زیادہ ترقی کر جاتے۔اگر کوئی شخص روتا ہوا اپنا آدھا مال بھی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔فائندہ ہمیشہ انہی قربانیوں کا ہوتا ہے جو خوشی ، اخلاص اور بشاشت سے کی جائیں۔وہ قربانیاں جو بشاشت سے نہیں کی جاتیں ان کا ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔یوں قربانی کرنے کو منافق بھی کرتا ہے۔کبھی لوگوں کو دکھانے کے لئے کبھی دوسروں کے ضرر سے بچنے کے لئے اور کبھی خود فائدہ حاصل کرنے کے لئے۔لیکن چونکہ اس کے دل میں اخلاص ، محبت اور بشاشت نہیں ہوتی، اس لئے اس کی قربانی خواہ وہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی قیمت نہیں رکھتی۔پس ضروری ہے کہ ہم جماعت میں اخلاص اور تقویٰ پیدا کریں کیونکہ اخلاص اور تقویٰ پر مبنی قربانیاں ہی سلسلہ کو مضبوط کرتی ہیں۔اس میں شبہ نہیں جماعت کے مخلصین نہایت شاندار قربانیاں کرتے ہیں مگر منافقوں کی تعداد باقیوں کا کام بھی خراب کر دیتی ہے۔اور خلوص سے جماعت کا ایک نہ جو کام کر رہا ہوتا ہے اس میں رخنہ واقع ہو جاتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ مالی حالت کو مضبوط کرنے کے لئے جو میں نے تحریکیں کی تھیں ان میں بیرونی جماعتوں نے تو حصہ لیا مگر قادیان کی جماعت ان میں حصہ لینے سے بہت پیچھے ہے۔مثلاً پچھلے دنوں میں نے کشمیر کے مظلومین کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی۔میں نے دیکھا کہ بیسیوں جماعتوں نے اس پر عمل کیا اور وہ عمل کرتی چلی جارہی ہیں۔مگر قادیان کی جماعت نے اس چندہ میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے۔بلکہ کئی کئی مہینے ایسے گزرے ہیں جن میں قادیان کا چندہ صفر کے برابر رہا ہے۔حالانکہ جب میں نے کہا تھا کہ یہ چندہ نفلی ہے فرض نہیں تو دوستوں کو زیادہ ہوشیار ہو جانا چاہئے تھا۔اور زیادہ مستعدی سے اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔