خطبات محمود (جلد 13) — Page 557
خطبات محمود ۵۵۷ سال ۶۱۹۳۲ جاتی اور انسان کو مؤمنوں کے زمرہ سے نکال کر منافقوں میں شامل کر دیتی ہے۔ منافقوں کی علامات بیان کرتے ہوئے رسول کریم اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جب روایت کرتا ہے تو جھوٹ کویہ ۔ یہ بولتا ہے، تبادلہ کلام ہو تو گالیوں پر اتر آتا ہے، وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرتا ہے ہے۔ تین منافقوں کی بڑی علامتیں ہیں۔ منافق ہمیشہ گالیاں دینے والا جھوٹ بولنے والا اور وعدہ خلافی کرنے والا ہو گا۔ سب سے بڑی وعدہ خلافی تو یہ ہے کہ خدا سے عہد کرتا اور پھر مکر جاتا ہے اور بائیں ہمہ وہ نادان خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے انعامات اسے حاصل ہو جائیں گے اور وہ جنت میں داخل ہو سکے گا۔ حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے لئے جہنم تیار کر رہا ہے اور روز بروز اللہ تعالیٰ کے انعامات سے محروم ہو رہا ہے۔ میں اپنی جماعت کے دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ وعدہ جو انہوں نے اللہ تعالی اور اس کے رسول سے کیا ہوا ہے دیکھیں کہ انہیں اس میں کسی قدر پختگی حاصل ہے۔ تم اپنے نفسوں پر غور کرو اور سوچو کہ تم نے جو اللہ تعالی سے عہد کیا تھا اسے کس قدر پورا کیا۔ مومن اور منافق میں ہیں فرق ہے کہ مومن ہمیشہ یہ خواہش کرتا ہے کہ اسے اور قربانی کا موقع ملے اور منافق ہر قربانی پر روتا ہے اور کہتا ہے اور کہتا ہے مصیبت آگئی۔ چندہ دینا پڑے ، تبلیغ کے لئے نکلنا پڑے خدمت دین کے لئے کوئی تحریک کی جائے ہر موقع پر وہ روئے گا اور کہے گا بڑی مصیبت ہے ، ہر وقت چندہ ہی چندہ مانگا جاتا ہے۔ جس کام کو انسان دل سے نہیں کرتا بلکہ روتے ہوئے کرتا ہے اس کے کرنے پر اسے ثواب کس طرح مل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہمارے کاموں کی احتیاج نہیں۔ وہ تو ایک محن کہنے سے قوموں کو بڑھا دیتا اور ایک من کہنے سے انہیں گرا دیتا ہے۔ مسلمان کبھی ساری دنیا کے حکمران تھے اور یورپین مادر زاد ننگے پھرا کرتے تھے۔ لیکن مسلمان کیوں گر گئے اور کس لئے یورپین ترقی کر گئے۔ یہاں تک کہ آج یورپین کہتے ہیں کہ مسلمان بد تہذیب اور علوم سے نابلد ہیں۔ کس چیز نے مسلمانوں کو ذلیل اور پست کر دیا اور کس چیز نے یورپین لوگوں کو بڑھا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے من کا کرشمہ ہے۔ خدا نے یورپین قوموں سے کہا کہ بڑھو - وہ بڑھنے لگ گئیں ۔ اور مسلمانوں کو سزا کے طور پر کہا کہ گر جاؤ ۔ یہ گرنے لگ گئے۔ پس ہماری قربانیاں کیا چیز ہیں۔ آج جو قربانیاں مسلمان کر رہے ہیں مجموعی طور پر ان تمام صحابہ کی قربانیوں سے بڑھ کر ہیں جو اپنا سارا مال خدمت دین کے لئے رسول کریم ملی ایم کے سامنے پیش کر دیا کرتے تھے۔ بلکہ آج لاہور کے منافق اس سے زیادہ روپیہ دے سکتے ہیں جتنا مدینہ کے