خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 554

خطبات محمود ۵۵۴ سال ۱۹۳۲ء ان پر ہی کفار مکہ کی طرف سے مظالم ہوتے ہیں ۔ مگر جب رسول کریم میں ہم نے بار بار اپنی بات کو دہرایا تو انصار سمجھ گئے کہ آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ ان لوگوں کا اخلاص اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ باوجود اس بات کے کہ ان کا معاہدہ میں تھا کہ وہ مدینہ کے اندر رسول کریم میم کی حفاظت کریں گے اور باوجود اس بات کے کہ خدا کے رسول معاہدہ کو توڑا نہیں کرتے۔ اگر انصار اپنے اس معاہدہ پر اصرار کرتے تو ہرگز خدا اور اس کے رسول کا ان پر کوئی گناہ نہ ہو تا لیکن باوجود اس کے کہ بظاہر شرعی ذمہ داری ان پر عائد نہ ہوتی تھی ایک شخص ان میں سے کھڑا ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ا شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں میرا یہی منشاء ہے۔ اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! جب انسان ایمان لے آئے تو پھر یہ سوال ہی کہاں باقی رہ سکتا ہے کہ میرا معاہدہ کیا ہے اور مجھے کس جگہ لڑنا چاہئے ۔ خدا کی قسم ! اگر آپ سمندر میں ہمیں گھوڑے ڈالنے کے لئے فرمائیں تو ہم وہاں بھی گھوڑے ڈال دیں اور دنیا کی کسی جگہ پر آپ جائیں کوئی دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ آپ کے آگے بھی اور پیچھے بھی دائیں بھی اور بائیں بھی ہم اپنی جانیں لڑادیں گے اور کوئی شخص آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے ۔ اگر لڑائی ہی کرنی ہے تو بسم اللہ کیجئے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ وہ چیز تھی جس کا رسول کریم میں تعلیم کے ساتھیوں کی اکثریت نے نمونہ دکھایا۔ اور ایسی ایک ہی نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالیں ہمیں تاریخ اسلام سے ملتی ہیں جو قربانی کے ایسے اعلیٰ نمونہ پر مشتمل ہیں کہ دنیا کے پردے پرا پر ان کی نظیر تلاش کرنا محال ہے۔ اور یہ صرف صحابہ کی جماعت سے ہی مخصوص نہیں کسی قوم اور کسی جماعت میں ایسی قربانی نظر آئے خواہ وہ دشمن کی جماعت ہی کیوں نہ ہو دل اس کی عظمت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ غرض یہ وہ نمونے تھے جو ان لوگوں نے دکھائے جو رسول کریم میم کے ساتھی تھے اور پھر اکثریت نے یہ نمونے دکھائے لیکن باوجود اس کے ایک اقلیت ایسی تھی اور ضرور تھی جو اپنے نمونہ میں بالکل حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح تھی۔ جس طرح رسول کریم میں یہ حضرت موسیٰ کے مثیل تھے اسی طرح آپ کی جماعت کی ایک اقلیت حضرت۔ حضرت موسی کے ساتھیوں کی مثیل تھی۔ اور اور گو انہوں نے زبان سے ایسا کبھی نہیں کہا کہا کہ کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ عملاً انہوں نے ایسا کئی دفعہ کر کے دکھایا اور جب قربانی کا موقع آیا دہ گریز کر گئے۔ ان کے ظاہری بیانات اور ظاہری اخلاص و محبت کی خدا کے حضور کوئی