خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 552

22 خطبات محمود ۵۵۲ 64 جماعت کے مخلصین سے قربانیوں کا مطالبہ (فرموده ۲۶- اگست ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ تمام انسانی ترقیات اس تعلق اور فرمانبرداری کے ساتھ وابستہ ہیں جو انسان خدا تعالی کے ساتھ پیدا کرتا یا اس کے احکام کی بجا آوری میں جس کا نمونہ دکھاتا ہے۔ مونہہ کے خالی الفاظ کبھی انسان کے کام نہیں آتے ۔ اور صرف ظاہری اخلاص انسان کو کچھ بھی نفع نہیں دے سکتا۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم کی تعریف میں منافق لوگ وہ کچھ کہا کرتے تھے جو مؤمن بھی نہیں کہتے تھے۔ اور بسا اوقات وہ اپنے اخلاص کو ایسے الفاظ میں ظاہر کرتے تھے کہ ایک ناواقف سننے والا انسان دھوکا کھا جاتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ شاید ان سے بڑھ کر اور کوئی مومن میں لیکن جب کام کا وقت آتا جب قربانی کا مطالبہ کیا جاتا جب مال اور جان خطرے میں پڑ جاتا اس وقت وہ لوگ بالکل علیحدہ ہو جاتے اور اس طرح آنکھ پھیر لیتے کہ گویا ان کا رسول کریم م سے کبھی تعلق ہی نہ تھا۔ خود اللہ تعالی کے فضل سے ، اسے رسول کریم میں ہم کو جو رعب حاصل تھا اور جسکے متعلق آپ فرماتے تھے کہ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرِ مجھے ایسا رعب دیا گیا ہے کہ ایک مہینہ کی ا مسافت سے ہی اس کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کی بناء پر منافق یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مُهُنَا قَاعِدُونَ کے کہ جاتو اور تیرا رب دشمنوں سے لڑائی ۔ کرو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ لیکن عملاً انہوں نے نہ ایک دفعہ بلکہ بارہا ایسا کر کے دکھایا۔ وہ مونہہ سے تو فرمانبرداری کا ہی اظہار کرتے تے ۔ تھے لیکن انہی میں سے وہ لوگ تھے جو احد کی جنگ کے موقع پر شهر سال ۱۹۳۲ء