خطبات محمود (جلد 13) — Page 50
خطبات محمود ایک شخص خیال کر سکتا ہے کہ یہ جو اپنی تعداد لاکھوں تک بتاتے ہیں یہ مبالغہ ہی ہو گا کیونکہ سرکاری رپورٹ غلط نہیں ہو سکتی حالانکہ مردم شماری کرنے والوں کا یہ سفید جھوٹ تھا کہ احمدیوں کی تعداد ہندوستان میں ۲۸ ہزار ہے۔ان کی تو یہ حالت ہے کہ 1911ء میں جب امر تسر میں کئی تو احمدی تھے وہاں صرف ایک احمدی لکھا گیا تھا اور وہ بھی ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کو مگر اس کی ذمہ داری ہم پر ہے کیونکہ ہم خود تعداد ٹھیک درج کرانے کا انتظام نہیں کرتے اور اس طرح غفلت سے بہت سخت نقصان ہوتا ہے۔میں الفضل میں مردم شماری کے متعلق ایک اعلان کرا رہا ہوں۔افسوس کہ اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔چاہئے تھا کہ سال چھ مہینے قبل یہ کام شروع کیا جاتا مگر پہلے توجہ نہ کی جاسکی۔اب اگر چہ اخبار میں مسلسل اعلان شائع ہو رہا ہے مگر لاکھوں کی جماعت ہے جو دور دور بکھری ہوئی ہے اور اخبار کی اشاعت دو ہزار ہے۔اگر ایک پرچہ کو دس آدمی بھی پڑھیں تو پھر بھی ہیں ہزار کو اطلاع ہو سکتی ہے اور اگر ان میں سے ہر ایک تلو کو بتائے تو بھی دو لاکھ سے زیادہ کو اطلاع نہیں ہو سکتی اس لئے اب جو اعلان کیا جارہا ہے اس سے پورے فائدہ کی امید نہیں ہو سکتی۔اس کے لئے بہت پہلے کوشش شروع کرنی چاہئے تھی۔خیر اب بھی جتنا وقت ہے اس کے لحاظ سے کوشش کرنی چاہئے اور اگر پورا نہیں تو ادھورا کام ہی کر لینا چاہئے۔اٹھائیس ہزار کی تعداد کس قدر شرمناک ہے۔مگر یہ خطرناک طور پر غلط ہے۔میں نے گورنمنٹ کی تین سال کی رپورٹیں پڑھی ہیں۔ان میں بھی ہماری تعداد ستر ہزار سے زائد بتائی گئی ہے مگر یہ بھی غلط ہے۔ہماری جماعت خدا تعالٰی کے فضل سے بہت زیادہ ہے۔پس اگر سارے مل کر کوشش کریں تو مردم شماری میں ہماری تعداد بہت ثابت ہو سکتی ہے۔آج ہی ضلع گورداسپور کے دو دیہات کے دوست ملنے آئے تھے۔ان سے معلوم ہوا کہ دھرم بکوٹ میں جو معمولی سا گاؤں ہے سو (۱۰۰) سوا سو (۱۲۵) کے قریب احمدی ہیں۔اس طرح بیسیوں گاؤں ایسے ہیں جن میں احمدیوں کی تعداد سینکڑوں سے زیادہ ہے۔اور اگر پوری طرح مردم شماری کی جائے تو میں سمجھتا ہوں اسی ضلع میں ہیں، پچیس ہزار سے زیادہ احمدی نکلیں گے مگر بعض لوگ ستی سے کام لیتے ہیں۔شمار کنندگان عام طور پر ہندو ہوتے ہیں جو ان قوموں کو خصوصیت کے ساتھ کم دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اس لحاظ سے وہ احمدیوں کی تعداد خصوصیت سے کم درج کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بالعموم کم دکھاتے ہیں۔اب اگر ہر شمار کنندہ کمی کرنے لگے تو مسلمانوں کی تعداد میں لاکھوں کی کمی ہو سکتی ہے اور غور کرو اس سے مسلمانوں کو کتنا نقصان اور ہندوؤں کو