خطبات محمود (جلد 13) — Page 543
خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۲ء سرور ہوتے ہیں مگر وہ علم کے طور پر ہوتے ہیں۔ ان کا دل پر اثر نہیں ہوتا۔ وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ایک نظافت پسند اور صاف کپڑے پہننے والا شخص جب بازار میں سے گزرتا ہے تو غلاظت کے چھینٹے اس کے کپڑوں پر پڑ جاتے ہیں۔ لیکن عام طور پر ایسے شخص کی حالت اچھی ہوتی ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ غلیظ ہے۔ کیونکہ اسے گندگی کے ساتھ شغف پیدا نہیں ہوتا۔ ایک بازار سے گزرنے والا انسان جس پر غلاظت کے چھینٹے پڑ جاتے ہیں اور اس دھوتی پوش لالہ میں کیا فرق ہے جو نہایت گندی دھوتی پہنے ہو تا ہے ۔ اور دکان سے اتر کر نیچے نالی میں پیشاب کرتا اور دھوتی سے ہی پیشاب پونچھ کر حلوا پوری بنانے لگ جاتا ہے۔ بظاہر پہلے شخص کے کپڑوں پر بھی غلاظت پڑی اور لالہ کے کپڑوں کو بھی غلاظت لگی۔ مگر کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ یہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔ ہر سمجھدار شخص کے گا کہ وہ لالہ جس نے نالی میں پیشاب کیا اور پھر کپڑے سے پونچھ کر دکان پر آبیٹھا، وہ غلاظت کو پسند کرتا ہے۔ مگر وہ نظیف الطبع انسان جس پر چلتے چلتے گندگی کے چھینٹے آپڑے ، وہ غلاظت کو نا پسند کرتا ہے۔ اس لالہ کے دل میں غلاظت ہے مگر اس شخص کے ظاہر پر غلاظت ہے۔ پس جو کامل مؤمن ہوتا ہے بسا اوقات اس سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ کئی دفعہ مجبوریاں ایسی پیش آجاتی ہیں جن کی وجہ سے غلطی ہو جاتی ہے۔ اور بعض دفعہ غفلت بھی گناہ کا موجب بن جاتی ہے۔ غفلت کی مثال میں رسول کریم سیر فرماتے ہیں کہ جب سوتے سے آدمی اٹھے تو چاہئے کہ ہاتھ دھو کر برتن میں ڈالے کیونکہ کیا معلوم اس کا ہاتھ سوتے وقت کہاں پڑ گیا ۔۔ جس طرح جسم پر سونے کی حالت میں غفلت طاری ہوتی ہے اس طرح روح پر بھی بعض اوقات غفلت غالب آجاتی ہے۔ اور وہ غفلت ایسی ہی ہوتی ہے جیسے صاف کپڑوں والے انسا انسان پر غلاظت کے چھینٹے آپڑیں۔ لیکن ایسی غفلت نہ صرف یہ کہ درجہ کو گھٹاتی نہیں بلکہ بسا اوقات درجہ کو بلند کر دیتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت معاویہ کے متعلق سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ فجر کی نماز کے وقت ان کی آنکھ نہ کھلی جب اٹھے تو نماز فوت ہو چکی تھی۔ اس پر انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ سارا دن روتے رہے۔ اور انہوں نے اس غم کی وجہ سے زندگی میں موت دیکھ لی۔ دوسرے دن اسور ہے تھے کہ کشفاً ان کو کسی نے لو کسی نے آکر جگایا اور کہا کہ اٹھو جلدی کرو نماز میں دیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے انے پوچھا تو کون ۔ کون ہے ۔ وہ کہنے لگا میں شیطان ہوں۔ حضرت معاویہ نے کہا تیرا کام تو نے نماز سے روکنا ہے تو نماز کے لئے جگا تا کیوں ہے ۔ وہ کہنے لگا میں نے تمہیں نماز سے روک کر دیکھ لیا ہے۔ وہ