خطبات محمود (جلد 13) — Page 542
خطبات محمود ۵۴۲ ہو تا ، جھوٹے مقدمات کی معرات سے محفوظ ہوتا کوئی ڈاکو اس پر حملہ کرتا کوئی دشمن اسکی آبرو ریزی نہ کرتا اسکے حقوق تلف نہ ہوئے بادشاہ ظلم نہ کرتا ، ہمسائے کی تکلیف سے بچا رہتا لوگ اس پر بہتان نہ باندھتے اسکے بیوی بچے نہ ہوتے نہ مرتے۔پس اگر پیدا ہو کر بھی انہیں نقصانات سے نجات ملی تو کونسی زائد چیز مل گئی۔حقیقت وہ ہوتی ہے جو حقیقت مثبتہ ہو اور اس میں کوئی زائد چیز انسان کو حاصل ہو اور میں نے بتایا ہے کہ وہ زائد چیز قرب الہی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اگر انسان پیدا نہ ہوا ہو تا تو وہ اسی طرح نجات پایا ہوا ہوتا جس طرح پیدا ہو کر وہ نجات حاصل کرتا۔لیکن جو پیدا ہوا اور اس نے قرب الہی حاصل کیا اس نے ایک نئی چیز حاصل کی اور ایسی نعمت پائی جو بغیر پیدا ہوئے وہ نہیں پا سکتا تھا۔پس محض نجات مومن کا مقصود نہیں۔البتہ کافر کا یہ مقصد قرار دیا جا سکتا ہے۔کوئی تندرست اپنا یہ مقصود قرار نہیں دیتا کہ وہ بخار سے بچ جائے۔ہاں بیمار کا یہ مقصد ہو گا۔اسی طرح جو جہنم میں پڑا ہوا ہے وہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں جنم سے بچ جاؤں لیکن جو جہنم میں نہیں وہ نہیں کہ سکتا کیونکہ وہ پہلے ہی باہر ہے۔پس محض نجات کا فر کا مقصد ہو سکتی ہے لیکن مومن کا مقصد نہیں ہو سکتی۔یہی وجہ ہے کہ سوائے اسلام کے تمام مذاہب والے نجات پر ہی بحث کرتے ہیں۔کیونکہ انکے دل محسوس کرتے ہیں کہ وہ جہنم میں پڑے ہوئے ہیں۔یہودی عیسائی، ہندو، سکھ غرض سب مذاہب والے نجات کا ذکر کریں گے۔اور اسی پر بحثیں کریں گے مگر قرآن کریم نجات کا بہت ہی کم لفظ استعمال کرتا ہے یا نجات کے ہم معنی الفاظ شاذ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔قرآن کریم جس بات پر زور دیتا ہے وہ قرب الہی ہے۔بار بار فرماتا ہے وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کے کہ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔اس قسم کے الفاظ معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے اللہ تعالی کی رضاء اور اسکی محبت کا حاصل ہو جانا بلند ترین مدارج رو حانیہ کا حاصل ہونا اعلیٰ روحانی طاقتوں کا حاصل ہونا اور دنیا میں ہی ایک نئی زندگی حاصل ہو جانا یہ چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہے اور یہ چیزیں ہیں جن پر اسلام زور دیتا ہے۔اور اسی لئے مومن جب تمنا کرے گا تقرب الہی کی کرے گا جس کے حصول کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ انسان قرآن کریم سمجھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔میں یہ امید نہیں کر سکتا کہ کسی انسان سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کلی طور پر انسانی غلطیوں سے پاک ہونا انسانی طاقتوں سے بالا ہے۔اور کلی طور پر شرعی غلطیوں سے پاک ہونا اللہ تعالیٰ کے خاص خاص بندوں کا حصہ ہوتا باقی سے قصور ہے۔