خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 531

خطبات محمود ۵۳۱ سال ۱۹۳۲ء انسان پکار تا تو ہے لیکن جا تا خود انکے پاس ہے۔ پس ان کو پکارنا مصنوعی اور بناوٹی ہوتا ہے ۔ لیکن خدا کی پکار حقیقی پکار ہے کیونکہ خدا بندے کے پاس آتا ہے بندہ خدا کے پاس نہیں جاتا۔ حقیقی پکار خدا کے لئے مخصوص ہے ۔ اسباب کے پاس ہم کو جانا پڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت ہر وقت ہمارے شامل حال رہتی ہے۔ اگر انسان اپنی پیدائش سے پہلے کی حالت پر غور کرے پھر پیدا ہونے کے بعد کی حالت کو دیکھے تو اس کو نظر آجائے کہ کئی سامان ہیں جو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کرتا ہے۔ اور اس کے پاس لے جاتا ہے۔ پس استعانت اور استمداد در حقیقت اللہ تعالٰی سے ہی ہو سکتی ہے اور وہ صرف خدا ہی ہے جو کسی کی مدد کرتا ہے اس لئے خدا ، خدا کے علاوہ یقینی اور کسی استعانت اور سے ہوتی ہی نہیں۔ اور جس طرح اگر کوئی شخص پانی سے کہے کہ میں تجھ پر احسان کرتا ہوں کہ جب بھی مجھے پیاس لگتی ہے تجھے پیتا ہوں آگ نہیں کھاتا تو اس کا یہ کہنا پانی پر احسان نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی خدا سے استعانت مانگتا ہے تو خدا پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ اور خدا کے تعلقات کی سچائی کا اظہار ہے۔ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ظاہر بین اور اسباب پر تکیہ رکھنے والوں کے نزدیک غلط معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی سچائی نہیں۔ حقیقی دعا تو ہے ہی خدا کے لئے باقی چیزوں سے چیزوں سے استمداد میں ہم اپنی مدد آپ کرتے ہیں، وہ چیزیں ہماری مدد نہیں کرتیں۔ سوائے ذات الہی کے کہ ہم اس کی مدد نہیں کرتے بلکہ وہ ہماری مدد کرتا ہے۔ یہی ایک چیز ہے جو انسان کے کام آسکتی ہے اور اس چیز کو بھول جانا گویا ترقی کے راستوں کو اپنے اوپر خود بند کرنا ہے۔ دنیا کے بارے میں تو لوگ اسباب کی تدریج کے قائل ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جو یہ کہے کہ کوئی کام آپ ہی آپ ہو جائے یا فوراً جائے یا فورا ہو جائے مگر دین کے معاملہ میں ہر بات پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دین میں بھی تدریج ہے اور Classes ہیں۔ اگر کوئی لڑکا پرائمری میں داخل ہو اور انٹرنس کی کتابیں اٹھا کر کہے کہ اوہ میں نے تو کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور سب کچھ چھوڑ کر چل دے تو یہ درست نہ ہو گا۔ کیونکہ اس کی ترقی تدریجی ہوتی ہے مگر ان چیزوں کو انسان دین میں مد نظر نہیں رکھتا۔ دین میں بھی مشکلات ، لاچاریاں ، دقتیں اور تاریکیاں پیش آتی ہیں جو آہستہ آہستہ ہی دور ہوتی ہیں لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ پنجابی میں ایک مثل ہے " من حرامی تے بجتاں ڈھیر " کہ نیت خراب ہو تو بہانے بھی نکل آتے ہیں۔ اسی طرح لوگ دین کے لئے محنت نہیں کرنا چاہتے اور چاہتے ہیں کہ فورا ان کو کچھ حاصل ہو جائے ۔ اصل بات نیت کی ہوتی ہے۔ اگر مومن کے عوَةُ الْحَقِّ پر یقین کرتے ہوئے اس پر قائم : ہوئے اس پر قائم ہو جائے تو وہ اتنے عرصہ