خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 48

خطبات محمود لے کر اس کا تجربہ کرنا چاہئے۔ سال ۱۹۳۱ء بہر حال جو علاقہ ایک ہزار احمدی ایک سال میں بنادے اسے ایک مستقل مبلغ دے دیا جائے گا۔ میں یہ کوئی ایسا وعدہ نہیں کر رہا جو پورا نہ کیا جاسکے ۔ ایسی جماعت کو ایک مبلغ دینا مرکز پر کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہزار احمدی سے چندہ میں بھی کافی اضافہ ہو جائے گا۔ بلکہ میں سمجھتا ہوں لاہور جیسے شہر میں اگر سو احمدی بھی ہو جائے جن میں سے پچاس کمانے والے ہوں تو بھی ایک مبلغ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح امر تسر یا دوسرے بڑے شہر میں ان میں مبلغ رکھے جاسکتے ہیں کیونکہ شہری لوگوں کی آمدنی دیہات کے رہنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ شہر میں اوسط آمدنی پچیس تمہیں روپے ہوتی ہے اور اگر پچاس کمانے والے نئے احمدی ہو جائیں تو ان کے چندہ سے ہی مبلغ کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں۔ اور وصیت وغیرہ ملا کر تو آمد بہت بڑھ سکتی ہے۔ ایس کے علاوہ آئندہ کے لئے احمدیت میں داخل ہونے والوں کا سلسلہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ادھر ہم مبلغین کلاس کو وسعت دے سکتے ہیں۔ زیادہ طلباء کو وظائف دے کر اس میں داخل کر سکتے ہیں۔ پس لاہور امرتسر، دہلی، لکھنو ، بمبئی ، کلکتہ کراچی، ملتان وغیرہ شہروں کی جماعتیں اگر اس سال نتوا نئے احمدی دے دیں جن میں سے پچاس کمانے والے ہوں تو انہیں ایک مبلغ دے دیا جائے گا۔ لاہور میں ہماری جماعت دو ہزار کے قریب ہے۔ اور تمرد چھ سات سو سے کسی طرح کم نہیں اتنی بڑی تعداد کے لئے سال بھر میں ۱۰۰ یا ۲۰۰ نئے احمدی بنالینا کچھ مشکل نہیں اور اگر وہ سب مل کر 100 بھی بنالیں تو انہیں ایک مستقل مبلغ دیا جا سکتا ہے۔ مگر دیہات میں چونکہ آمدنی کم ہوتی ہے اور ایک زمیندار کی اوسط آمدنی آٹھ دس روپے ماہوار سے زیادہ نہیں ہوتی اس لئے وہاں ایک ہزار احمدیوں پر ہی مبلغ دیا جاسکتا ہے لیکن ان کے لئے ایک ہزار کا احمدی بنالینا بھی ایسا ہی ہے جیسے شہر میں ایک ۱۰۰ کا بنانا کیونکہ شہروں کے لوگ زیادہ متعصب زیادہ کج بحث اور زیاد سخت دل ہو چکے ہیں۔ پس اگر دس پندرہ گاؤں مل کر کوشش کریں تو وہ بھی ایک مبلغ لے سکتے ہیں۔ سوچنا چاہئے کہ جب سچائی ہمارے پاس ہے تو ہزار نئے احمدی بنالینا کیا محال ہے۔ پس شروع سال میں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو جماعتیں کوشش کر کے نئے احمدی بنا ئیں وہ مستقل مبلغ لے سکتی ہیں۔ ضلع سیالکوٹ میں ہماری جماعت کا اتنا اثر ہے کہ اگر کوشش کرے تو ایک ہزار احمدی سال میں نہایت آسانی سے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ضلع گورداسپور میں بھی قریبا جاٹ قو میں سب احمدی ہو چکی